Skip to main content

Full text of "Dawat O Tableegh Ka Nabwi Usloob By Azad Alam Misbahi"

See other formats


-2 تن کال پک 


۸۷۰2090 
۷ 


00007 ا5 .۰۹13۱385 ۱۷۷۷۷۷۷ 


-. 


٦ح‏ ےہ ہس سم ہج ھت تھے ۱ 


821 


. 
۷ل ات 
0ا ہے لا 

کی ا ا 


وی جم لوگوں تک پیا اک چہ ایک ہی آبیت ہو۔(بناری ) 


دعومثتو 
تک 


4+ سلرے 


55م ددم دم دع دم مد دم دمد دم دمدے ہمد 5مد ەدم 5 دئاع دید یہد 


٠ 


شم آزا دحا لم مصبائی 


5 
5 
5 
5 
5 
5 
5 
5 
5 
5 
5 
5 
7 
۳ 
2 
۳٣ 
5 
5 
5 
2 
5 
5 
5 
5 
5 
5 
5 
5 
5 


117ر 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲ 3051.۸۷۷۸۲۹6۴6 7 


۹0007 ا5 آم135 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲۹۷۳ 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب (( 
مل عو ق یل مو لف تفوبر 


نا تاب : و عحوت وین کا نہ وی ا سلوب 

مولف : تج رآزارعا لم مصا ى 

نظرعنی ملاسلا علامہعبدامین نمی (رکن یش الا سای ) 
: ضرت موا مار یل اص مصہا 8 

پروف ریگ ٠‏ حافظا جھ خسان رضا پاڑا 

1 : و ٹس رض وی کوکات - مر ضالأوری دچح یق 


من اشاعت : ے ۲۳ا ٦۲۰۱ء‏ 
صنات : ۲ے 
تفرار : گیارسو / ۱۱۰١۰‏ 
ٹر رو ے 
2 ا معرص حافطامات وششن رت رفضارت 
. سم تمادکیالاخرتے ۳۳ ا مطا ا مار ۱۷٣٣ء‏ 
ناثر آل انا ای وکیشنل ٹرس ٹ شال روڈ مد عو یق 


مدسنے کے یتے : 
آل نام ا وکنشخل ٹرسٹ م دح یق 
چامعہ فا تہ را دفار چوک ور 
وارالعلومامی رشن اص رض مظفریر 
ام مویہ مور المعلومنسواں ع یکاہ برا ءلولی 
چام رع پدارڈربین مسحوکش نکالوئی وکا تا,٭٭ا٭ ہے 
با رسہ خوش جے 7 علوم کیتھادی صیبرالمرین تولہ مدصعوقی بہار 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب ۳( 


کون 
ا شرف ختاب ۵ 
۱۳| عرمعال 1 
۳ "تقایل . 
۴ رم 1 
۵| قول ول می سکمانیت ك۴ 
٦‏ مغ بیس تر کالما ظط ضردری ے ےا 
ے | اوقاتداوا لک پاعداری ٢‏ 
۸ خووسوا لَ 1" جواب دا ۲۳ 
١9‏ اخ نل موارر 2 
|٠٣‏ تاس او رتشی لکاطریقہ 2 
1 زین پر جک جن کا ط ربق ۲ 
۳ سام کو ری طرح متوج ہک رنے کے لیے کھرار پالن د١‏ ك۳۰ 
۳ سوا ل ایک جواب تیژد ۳٢‏ 
۳× .ےک ےکی ایت او رٹم پا ہکا استعال "۳ 
۵ بر امخحان اپنے اصحاب سے سوال ۳ 
|٦‏ اھ پاکندھاپککر سان لیت د2ع ى۳ 
ےا آ ایال یتیل کااناز ۳۹ 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 2 
۸ لے رہام پک روش ۳ 
۹ چچزو ںکوسامئے رک گرا نکی مت بیان فربان ےکاانداز ۴' 
۰| مسائ دریافت ہے بخی رتا ےکا اسلوب ۵ 
۲| کت وموعطت کے پیل نظ ر سوا ل پچ ہوجائیگن جواب دوسرارہے " ۴۸ 
۱۲ || سکوت افخقیارکر کے من کی توڑع 7 
|٣۳‏ لفن نع ورشسی مزا کے ذر یج تل ۵۳ 
۳۴ تزرار شا دکاالتزام ۵۳ 
۵ سائل سے تررسوال لو چچنا 2 
میلے سا لکاسودال پچ رآ پکاجو اب ۵۹ 
| دورا نتتقریرعال ومتتال میں تقر تن 1 
۲۸ ون ش ں کی ماضرن ر ےک غ وارشاز ٣‏ 
۹ آ خی ات 1٦‏ 
٠٣‏ | حافظاحات علییہ ال رح کے اقوال ذز ری ۸ 
۳۱ | فروغ ایل سنت کے لیے ای جخرت علیہ ال رح کے دس ای کرام ے 


1 بب ب, 4 'ٴ' 
٦‏ پ۳7 ُ۰ 
کے تپ لے 
7 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام.۲3۹51 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۱۹۷۳ 


دعوت وتبلیغ کا ثتبوی اسلوب (ھ) 


2 02( 
مخنروم اللیک س یش شرف الدین ام گی منیری علیہ الرہء 
تضمور کیک لعل رت صا مہ خفغ ال بن ات بہہارکی علیہ ال رہ 
تمور مافیا مات عاامہ شاو عپد ایز رت مرا وآبادکی علیہ ال رم 
پر بزدگوا رحتزم المقام جناب رز ہی عالم قادری 
اورواللد زم م شوج النماغاتون 
گی بارگ ہوں میس بین لک رتا ہوں 
0 ا 


ذ ال پاے اولیا 
آزادعا لم مصبائی 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام.۲3۹51 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۱۹۷۳ 


دعوت وتیلیغ کا تبوی اسلوب )٦(‏ 


عہررسماات اب بآاپ یٹ سے نےکر ع+ہدر حاض کک دی اسلا مکی تروع واشاعع ت کاکام 
ملس چاری سے اکم چندمٹریں سے را یی کیارواں یگجوسست پی گیا سے اوردحوت و یک 
فریی ضحم ری سے اضعا م نہیں پل اہے۔ می وج ےک ہآرمون من ال سنت کے مسکھی حرایف 
وہابیددیا نہ سلم ماشرے می ااسلط جمارے ہیں اورائل سن ت کاو دائر: سکڑ تا حا پاے_ 

آرج ہھارے پاس نہٹوکوئی مم بقاعت ے ‏ نکوئی منصصوب بند لا مل نہ دوسروں کے 
بناۓ ہوۓ مسائل پراخماد نہ دوسرے کے فتاوک کوقبو لک ےک یگخوائئش ء ن چھوٹوں میں بڑوں 
کی عمز تک یذبءشریڑوں ئل گھوٹوں رش قش تک ےکی مات و کو گنی کے ۴ رٹ کو 
تارے خر کہ رکوئی ابق جماعت اپقی میم اود اپناادارہ تا رکم کے خود نار نکی زار کا 
خنواہاں ہے۔ اس طر ایی ےکی ذات پدکوگی خر نکونہیں پڑت الب اشمائی طور پر ماراعمآأئی 
شی از وضو رمنضشرہوجاے۔ چم ائل سنت مسلک و مشرب اور فروگی مسائ لک نےکر ام ذست 
یں ہیں ہمارے اجھای اختتلاف واخنتارے اغیار خوب خحوب فاندہ انھمارے ہیں- 

یہ تی شف رش ری لالط سےاگر ےھ یدارک لی ہے یکن بت سارے 
ہندوستالی صوبوں یں انگ بھی حالت افس وس ناک ہے ۔ بہار ھا رکھننرءبنگالءآسام و خیرہ میں 
وپ او رج ریرکیکام انمجام دی ےکی ضرورت ے۔ ان صموبوں یل ن ہو 
معیاری ددسگائیں ہی سکم جن میں پاقاعدہ اعراد ىہ تا فخیلت رر سی 
ہوئی ہوہ نہکوئی ای صلی ادارہ جو الا کی تصائیف او رکب ورسائل اور ا نکی ہمہ جہت 
خدما تکوعا مک کے اور نہ دا ملغ نکی اط رخوادتعراو جو لو کے ساتھ دعوت وحن کا 
کام اضام دے کے نے بے چندادار ےبھی ہی ںنوا نکی اگ ڈور ارب لوگوں کے پاتھوں میں 


7 ۱213۲۷113.051.۸۷۸۲۹6۴6ء ۱۷۸۷۷۸۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب (ے( 
ے جخییںاعلیم ونم اون م ذس ے دوردو رب ککوئی علق نہیں۔ نۓ 
نام میکد ڑا ہواے اس قد رساقی ا یکوجام متا -ے پیا نی ںآتا 
آ ج تصنیف وہالیف ے زیادہ تن اور عہر حاضر کے دید تقاضوں پ رگم لکن کی 
فو رضیرے .سا یفن کے بح رتصنیف وہتالیف معمرروا لکی سب سے بڑکی ضرورت ے۔ 
ید لی کا دد ہے ہج دع قوم اود وی جناعت فوز فلا سے ہناد ہوع ہے جم کی 
پشت پگ اگیزلٹی ہو دور حاضرکی ای دعوتی دای ضرورت کے پیش نظر چنر ترک 
وفیال ۳ 3 جامعہ فاعم زہراءدونار چوک دنہ (بہا کی ایک ام 
میپنگ میں ای کیم نام" “لی انڈیا رای وکیشنل بے“ “ ےار شعبان المحضلم ۱۴۳۷م مطالق 
ےر جون ۲۰۱۵ کاقیام شمل می نآیاہ اس ایم سے جہارا مد الام کے نیاوی اصولو لک وی اور 
لیف طور پر بین لکر کے متل مکانمات تو کی سیرت و سنت اور اتباع شریعت کے جلووں 
سے سلم معاشر ےکو آراستہ اور می نکرنا ہے۔ علادہ از دیٹی و حصرکی علوم سے لوگو یکو 
تتعار فکرانااور مر ار و مرکاتب کے موجودہنظا مکی اصلابے- 
رم وگ گی زین خوائ شحف یک فی مرگ ٹیو اوزائن کے قح ت اشان وانے 

دوانے امو ہکوزیب قرطا سکروں ہین جب میبریی ملا جات محببگمرائی موا ال اص مصبائی 
نسب ایٹریٹرماہنامہ اش رفیہء مارک ایر“ سے ہوٹ یتوانھوں نے مھ ےی الوقت مصروفیت اور 
ستققبل سے تعلق سے بپچھ .تو میس نے جلیقینشن او ری سرکرمیو ںکوکتالی شکل میں عوام 
اڑا کے ساس چین کر ےکا عندیہ ظاہ رکیا۔ موا زاششیل اج مصباتی ن ےکہاکہ فی الوقت ىہ 
حنوا نپ کے لیے زیادہ موزوں و مناسب سے ۔ مین ” دعحوت وتلئغ کا نبوئی الوب م“ اس 
وت نے ایبا کالہ بے عنوان میرے متصر کے غلاف ہولیان جب خور وگ رکا تو حاات کے 
ٹل نظرب عنوان سب حال نظ رآیا۔ 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب )ہ۸( 

سب ا بای نے بی زمنون از رش رگ زار زنک اون نے جج نامز 
مشورددیا جو میرۓ لے مفید تڑخابت ہواہ بیس اس انی تھی ںکہ اس عنوان پدکماحقہ اد سیر 
حاصل بح ٹک سکوں_ جج ہم اپنی نس علی استورا کے مطائی بج لین نک یکوشش کی - 
قاریی نکرام سگمزارنش ےک کتتاب میں ہا ںکپیں ابی نظ رآ ۓے تو لق رض اصلاب اطلا غ 
فرماٗیس انشاء ال ہآندوایڈیشن یں ال سکی اصلا مر دی جات گی- 

قوم وملتء مک اسم حضرت علامہ عب این لمران وام نہ العالی نے ابق اصلاح 

اور مغیر مشوروں ے ٹوازا۔ اق ضر کی با رگاو میس انان و تک رکاگرستہ بڑے اوب کے 
ساتھ یی لکرا ہے۔ الڈدرب الحزت جاعت ائل سنت پ رآ پکاسارینعاطفت مادی قائ رھھے۔ 

بت ریرکیکام میرے لیے ببت دخوا رگزار ھا انم یں ان رام حمرات کا شر زار ہیں 
چخوں ن ےک یبھی طرح میری مددکی اود می اکا مآسا نکیا خصوت مطقی مج سرفراز مصبائی 
)ا )مض مالمر مصباتی ڈ۷ مفقی ‏ حمان رضا مصسبائی(و4:)ء مض جھ اسرادنن 
مصباتی(ملفریس, مغ مج رخفریا بکجبھی مص اتی ل(مظفربسہ جافی شج اوس رضوکی (کوکات)ء حافظ 
بن رضا(+ 8وہ حافظ شجر رضانورکی (ودعویی) حافظظ مہ ای( دعوق) اور ٹر عارف رضا 
(درگہ و غیرد الد رب الھز تک با ایس دعا ےک الن قمام رات کو دا نکی سعحادتوں سے 
الال فریاے اور مب ری اس مقی رکا وش کوقیول فراک رکا بکومغیدعام وخمائ ہناے ۔آشیکن 

خ ا | ہے افا 
رآزارما مصا 0 
سکومت ؟کیتھا بی نصیبرالربین ٹول بشلع :مد عوبی(بہار) 
متلم دج فخضیلت الا تۃ الا شرفیہہ مارک اود ہاش رک (وي ) 


مدپائل:1/7398307478 0/6 
.00800871 92زنط 18563 0صل471 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام 1351 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲۹۱۷۳ 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب (۹( 


مم 


ریپ بل 


مغ اسلام حقرت علام رپ | ہین نھانی معباقیصاحب بلہ 
(رکن) یع الاسلائیء مارک پور اف مکڑھ 
سم الله ال رن الزخیم 

توعوت وحن کا نبوبی الوب “ ناب یکناب عز بی مولا ناش رآزادھا لم مصباتی ( مد عو بی ) 
کیا ایک کامیا بکویشش ہے ہآ دعوت ون کی طرف سے بڑی غفلت ری حجارجی ہے ہر 
طر فکمانے دعمانے اور زر اندوزگ یکا د ندرا یلا ہوا ١‏ دی دعوت کے تھا تھے میں بپشت 
ڈانے جا گے مہیںء فی رروپے یی کےکوئی دن یکام ہوجا نظ نی ںآناء اور جب ہوا سے وہ انل 
شنروڈ کے در جج میں ہے۔ ا یکساد بازاریی کے دور میس خخالص ید دی نکی تن واشاع ت کا تصور 
بی عنقا ہوتا جار ہے بی ربھی پھ نہ بج اڈ کے منلنس بنرے ہیں ء جو فروغ دیین کے لیے سی 
گررے ہیں۔ ران ا میس ال'د عمزوئل ص۵ 7,.ٌَ “0 بلملعروف ونھی عن ا نکر“ 
کی کیاکی ے ءاش عمزو لی نے انیس ےکرا مکی بد کا نکر ھی فریایاے اور ا کا یہ فان 
بھی نل ےک ہ تن ارت لا عکی اڈ“. (میرااج رتوصرف انل پر ہے )ای ماحول ش 
ہیں دی نکی تل و دحوت کے ل ےکیاکرناچا ہے اور ہمار ےآتقاوموی تضو رہ غ ا ات و معلم 
قرآن با لن کا اس سال می سکیا الوب اور ع رنہ تھا ری حانناض روربی ے ہ]اکہ ب بھی انی کی 

رآ لک جن د کا کک رحلیںءاىی خر سے بیکتاب منفظ رام پر لا یکئی ہے۔ 
اگ رچہ ہہ موضو با سے سرکاراق درس جلاڈاناء حا کرام اور او لیے امت کے 
کارناموں اور اقوا لکوش کیا جا ے توای کحنمکتاب تار ہوسکتی سے جس کے لیے عم ومطالعہ 
اور فرص تکی ضرورت ہے اور ال زمانہ اس بات کے عادگی ہو تے جارس یں ء دین کے ۓے 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
تھوڑاجی وق تکانی ے ‏ ج بک ہپ لوگ دین سیلھنے کے لیے ذداٹھی فرصت نہیں ہکا کے ء اس 
لیے ا منقمررسانے سے استنفاد ہآسان سے جس یس ایک ممعتتر یب مفقدار یل اعادمی ک یہہ 
اور واقعات حالب بی لکردیے گے بیں۔ ضرورت ےک اسے پیا یاجاۓے ‏ عا مکیاجائئ ۔ ال 
کے ذر یج خلت شعار مسلرائوں ٹیل دی بیداری لاگ جاۓ ء اور مع رحاض میں ضلئنغ دوعحوت 


1 ۰ء029 
دعا ےکہ مولی عڑوبل اس رسال کو تجول نراۓ آمین بجاہ سید ا مرسلین 
صل اللہ عليه وآله وصحبە الصلوۃ والتسلیم 
عمبدرامین مال ی مصبای 
یع الاسلائی مارک پو رما مکڑھ 
اا/ جادگ اادٰے ۳٤۱ھ‏ 


۷ ۱213۲113501.۷۸۷۸۲۹ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام .۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲۹۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
ترغ 
محخرت موڑان ٹر نیل اصرمصہا گیا ء سب ایل مبٹرباہنامہ اشرفیہء مبارک اور 
بسم الله ال رن الرحیم 
لك ا حمد یا اللہ والصلوۃ والسلام عليك یا رسول الله 
بت ورسالت بڑاجیل الشان او رٹیم الم رعبت منصب ہے۔ بعشت اخمیاوم سن 
میم لتق تسلی ما بنیادری مقعمد بن گان خداکوداری نکی سعادتوں اورارجمندیوں سے ہمکنار 
ان 
بی اکم ءرسحت عالمء ش ہنظاد عرب وم جناب مر رسول الد جا کان سیل وت 
ورسالل کی سب سے سن او آخرییکڑیی ہیں_ عو حا ءا شا وین لیم وت یت ء 
یٹس او رنلور ان ءان امو رکی انام ددی فرنھخ نت میں دالل ہے ۔آپ بھی کی 
دعوت نل بڑکی ہمہ جبت اود الا بآفریین ہے ۔آ پکی انقلالی تحریک ون نے عرب کے 
نعل تا لرتنبپرخاگ ک چو رف یں یتھف‌اف ری :تم وھ ضناتان 
نے دیصتے ہی دیتے اپقی رو نصرت اور سیادت و قیادت کا جنڈڑا چہار دانک عالم یں ہرادیا۔ 
آ پک حطینی مسائی کے اج میس قیصر روکس ری کے انان مر ا اور لم تکمد ھا لم یں ایا ند 
آوحی رکا اچالایٹیلا- 
خرن شک ہآپ باڈن کی دعوت برجبہت سے ای ککامیاب دعو تی او رآ پکی تل 
من گل امو جوہ ایک انقلابآفرین اور تہ خی حھنی۔ بل شب ہآ پکا روان انسایت کے 
سالا رم اور تقاف امت کے نیدی خواں تھے جو حہ بب مہ افراد قافل ہکوہیرارکرتے رے اور 
منزل مقصو کک رسائی کے لیے کر ہنمائی فراتے رسے۔ 
سپ کے گر دکوئی ارات پ تج ہکرت ہو ہے فی ملین بوناپار بنا : 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
شر (ڈلڈ اڈ چی ات ایک مرک ل یج سک طرف لوک کے چآتے تے۔ ا نکی 
70 0ں 
الا مکا پرچم دنائٹس صربلن کر دیا۔ اسلام کے ان پیبرو ول نے دناکومچھوئے خدرائول سے کھٹرالیا 
اور و ںکوس رگوںکرونے ۔ مم ٹی اور موک لاملا کے یرد نو نے پنددہسوسمال مم سکفرکی ای 
نشانیاں نہ دم نہیں جخنی ھتان اسلام نے صرف پفددوسال می لک دیں۔ عقیقت بی ےک 
مر (ٹاپڈل )کی مسق ببت بڑی جست یی ۔(میلا وغبر ص:۳۰۸۹ جار عرم پش کرای ) 
راہ دای سآ پک قربانیاں بے ہثال اور مسق اھ اتی : 
میرے ی اد شادفریات ہیں :اف ابععت معلا۔(شس مم نگ رگھوگیا)۔أ و ذیت 
ٹی الله ما مٰ یود اَ3 قبلل ف ئل خر تائوازت اف تاکن 
1 لم ستتے رے اذیت برداش ت کرت رے۔ جور وجفا کے نشتر سے لہاان ہوتے رےء 
کین اپی نیقی ش نکوہمیش ہآکے بڑھہاتے رسے اور بلاج رکا میاہیوں سے ہممکنار ہوئے- 
دحوت نکی کے میران لآ پک یکا میایو ںکاراز دراص٥‏ لآ پکا موس طرز بیانہ 
2٤ھ‏ 02" پش تلیتی اسلوب تھا یش اپک رہ ردور می مین وسبلخین اور دما؟ 
وواحظیی نکا ماب ہوتے اور انشاء ال قیامم ت کک وت ر یں کے _ 
یٹ ان یرت , نبوبی فراست او رجیقی عزم دواولہ کے سج ھآپ کے اوت دعوتی 
اسلوب اورحجاذ بقاب ونظ رعریقہ تن نے ایک انقلا بی برپاکیا۔ 
دخیاکی ہرز ان دااب میں( خواووہ نم ہوبانش دو چز زکانی اہی تک حال ہوٹی ے۔ یپ 
مواوہ ووم اسلووب 9" 
ص-+- 0 ) 
بڑااہم رول اداک رتا ے_ 
آپ بان یکا ہریت وتحلیرات میں مواد واسلو بکی جاذببیت ہ رہ نظ رآی ے اور 
قارین وساضتا نک جو رک رد یی ہے۔ بچھلا یکیو نہ ہو ہلپ کن جاب ال ”جو امع الکلم“ 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

کے نیز سے سر فراز کے گے ے فصاحت وبلانغت کے موقی لانے وانے جم ری ہربات 
٭سیر الکلام ماقل ودل“ک 3 مناسبت ےآ تم رما ءاور 
مقاات واحا لکی نطاب تر ہوۓ نت ےئ سوب اور کولی طرتے ہروے 
کیارلاتے۔ ”دعوت ون کا نہوئی الوب “مہ حبرت طوبکاایگ ام باب ے۔ 

اردو زان می خائص اس موضوع پرستتقل او نف یککتاب اب کک دا مکی نظرے 
نی ںگنڈدی ٤‏ ے۔البتدمضا مش۴ نکی گے ہیں- 

آرج جب کہ دعوت وحن کاکارواں لے ے زیادہ منشحم ہوا ہے خفلف دعوثی تحریک 
اور کڑتی میم وجودش سآبچگی ہےء اس موضوع پ رکا مکرن ےکی ضرور تتیا۔ 

مث گرائی مولاناحافطا و قاریی ش رآزادھالیم مصباتی دام لہ الحالی نے اس موضو لم 
اٹاک ایک بڑکی دعوئی ضرور تک یجتی لکی ے ال اوح ان مو رغر تک تر فولہت رک 
نوازے اور زیاددے زیادہ خحدمت دی نکی تونق ارزاں فراۓ۔ 

اتقرنے از اول ما آخ کاب کا مطالع ہکیا اور سب لیاقت الفاظ و عبارا تک 
گی۔ مولانامموصوف می ران تصزیف وتالیف کے مووارد ماف رڈیں۔ مکی وج ےک زبان دبیان 
اورظہارنھائیس ابی جشگی نمی ںآپاگی سے ۔ تا لم بابک عحدہکاونش ے۔ 

ولا آزاد مصہاتی حجامعہ اش رفیہ * مبارک لور کے ایک پاصلاحیت ہعلق اور اپنے نے میں 
قوم وا ت کا سیا درد رکنے والے طالب ملم ہیں خی ذ من او رجح ری مزاج رکنت ہیں تل 
میں الع سے ہمارگی بہت سمارگی امیر والتم ڑل اللہ تما یآپ 7ئ عم زا ںیل 
کک پاچیاے اورپ کے علم کل او رعرواقبال میں برکیں عطافرمائۓ ۔آ۴ین 

دماو 
ٹیل اص مصباتی 
سب ایٹٹما:نامہ اشرفیہ مارک ور 
۸ روری ٦۲۰۱ء‏ 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
قول وکل می ںجلمایت 


گوان اسلائی ظا دعوت و مس جان اور رو کی ج حیقیت رکھتاے ‏ مرشد 
کانیات, معلم انسا نیت ٹلاڈااکی دعوت وحن اور تعلیدات ہبیشہ کے لیے سے بک ر الام 
ای نکی صرف نی راقرون کک کے لے مد ودنہ تی بکہقیام تک کے لیے ہے۔ 
اف انل مات نب و کی اہمیت وافادیت بمیشٴ سم 0ص ۶ء 
لیے تحضرراہ یں ۔آپ بلاڈ ا ساری زندگی دعوت حئنغ کے لے جدوجہد فرماتے رہے۔ اور 
صحا کرا مکوچھی ال کی لقن فرماتے ر ہے ء جی الہ ذ یل کے واتے سے وا ہوتا 

ایک وفع حضرت سعد پاپ کو خر ہوئی رخ م مد انی سے تچ لکرسباطابی سکھہ راس “۔ 
تونطرت سور نے رت عم کو ا لاح دکیاء وہالں سے جوا بآ پاکہ لڑائی سے جےلے بج 
لوگ فی رب نکر جاجیں اور ا نکواسلا مکی رت دلائیس ۔ چنال چہ جحخرت سعد نے سرداران 
قائل بیس سے چو دہ نام ور اشزائ سکو تی کیا جو لف عمفننوں کے لحاط سے رام عرب میں 
کیلتاے رو زگار تھ ء ان یں سے چن میہ یں عطاء بن حاجب) اشث بن فیس مخر ین شعبہ 
اور مخروبین زراردو یرہ یہ بزرکمفل و ترییراور :مو اعقیاط اور سیاست میں اپناجواب ٹنیں 
رھ تے۔اسی طر دنگ میادین اسلام موق و تن اسلا مکرتے گے۔اور بی تمام ماہدین 
ا نے ئل وکردار اوررفیار وکغنار سے نی سلموں پر اس طر اشراندازہہوت ےک وہ خودچنوداسلام 
یجان ب کے هآے۔(دیٹی دعوت:ص+۹۱) 

بنا آپ بییانے نے جس کی تعلیعم لوگو ںکو دی ءیلہ اس پر خو دم لک کے 
دکھا یا آپ نے ہبیش ہم عام میس جوپھفربایااو رکر نک یتین فربائی تھا یں میس خو 1بھی اس 
پفل پچ نظ رنے ضس کی وجہ سے لوگ متائ ہوکر دعوت ف نکوقبو لکرتے گے ۔آپ کے 
قول وٹل میں پیل تکاہی یہ تھاکہ حرب نآ پکی دو کچھ لیے کے بعد ا کو کر 
نے می سکوئی درگ نہکیا۔ دائ یم کی سرت طی کا ىہ با بآ ھی ہمارے لے مینارہٗ 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام.۲3۹51 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۱۹۷۳ 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
رات اور لال اتبا ہے ۔ آپ با ون یس لے وین ٹیس مصروف رت اور راقو ںکوعاد 
شب زندددا ر نظ رآتے۔ اتظاطول سجبدہو کو فرمات ےکہ پڑے اقدرس شل ور مآجاتاء عالا لکہ 
آپ معصوم تے او رآپ و099 
دحوت وتغ یس دائ یک شخصی تکلیدری حیشیت رھت سے +دعوت وتل کے میلران ٹںش 
و ی تن سکاحقہکامیاب ہوسکتنا سے جس کے اعال وکردار اس کے اقوال وفتار کے مطابن 
ہویں کیو ںکہقوم وعطت کے ذ ہن ومک میس انقلاب بہار نے والی جو سب سے اہم جچزے وہ 
رق 8افاق رو رھ الظل میں کمانیت سے ان بی لوگو ںکی ہایس فوری طور پر 
جو کے قلب میں تہ بنا تی ہیں :جن کے اقوال داعمال میس انت ہوئی سے ۔تول ول میس 
کیماخی تک اہمیت دعوت تی سکیا سے ؟ وورسول اول ٹڈ کے طر زحلغ سے معلوم ہی 
ہے۔آپ نے قول وخ لکی انی تکواولیت دکی اور اظہار دحوت سے ملک ااقی توم سے اپتنے 
گردار وگفتار اور افعا لکی صح تکی عضمانت نے می٠‏ اس کے بعد دعو تکاکام شرو خکیاءاس لیے 
ایک دائ یکوچا یی ےکہ میران دعوت وشل میں قدم رکھنے سے علیہ اپنے افحال وکردا رکا جائتزہ 
0 و پت 
متقبل میں یکو رکشت ماک یکا موشح باتح ہآ ے۔ 
نایب راسلا مکا ہہ دعوئی اسلوب مب حاضرمیس علماومشا کے لیے خمون یل سے۔ 
آج ضرورت الس با تکیا ‏ ےکم اپنا محاسب ہکرس اور یھی ںکہ دعوت ولغ کا فی ہکس حد 
تج اشام نے ےکی اوران سک بین بھم کت حساس ہیں۔ہمارے اعمال واقعال یح 
قد ریمانیت سے اور جمارے احوال وکردار سے عوام سکقنے ممفسنکن ہیں ہھوارے قول ول میں 
کس قد ر تناد ے کے بے ہیں او کرت بن یں ۔حالاں کہ الد تپارک دنا ی خرن منقرس مشش 
ارشارٹر کے" تَقولُونَ مَالا تعن “(سورہااصف:۲/۴۱)ائس با تکاعح مکیوں دۓے ہوگس 
کوخو نی کرت دوسرییآیت ”اذا شکف گا ینک“ (سر:شورییٰ: ۱۵/۳۲) ا ےتوب ! 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
لوگو ںکودعوت دتکے اور ابی دعوت پر استنقامت اختیار سکییے۔ عدیٹف پاک مگ ایی 
تائدہول ے: 

حخرت انس لگا سے روایت ےکہ حضور جانا نے فرماا: یس نے مرا نکی 
شب می دکھاکہ ہہ لوگوں کے ہو فک ککی خنچیوں سےکائے حجار سے ہیں۔ میس نے ایچھا: 
تل م کون لوگ ہیں ؟ افھوں نے عرخ سکیا : بین پکی امت کے خطیب اور واعظا ہیں جھ 
لوگو ںکو یکی ہداب تکرتے تے اور اپنے آ پکوھول جاتے تھے لچنی خودتی ککام شکرتے 
گے۔ (مشکوٰةۃ: ص:۳۸٦ءباب‏ الأمر با ملعروف) 

خرت اسامہ بن زی لان ےکہاکلہ ر ول الد با نے فربا ینہ قیامت کے ون 
اخ کوک جم میں ڈال دیاجا ۓےگاتو ان کی آنتیں فورآ پیٹ سے لگ لک رگ می ںگر پڑیی 
گی پچھردد یں یی گنی ان سک ےگردچ لگا ۓےگاجیلے ین مگ ی گید انا پیا ےتودوز یی وھ 
راس کے پا جع بوججائیس گے اور اس ےکھیں گے مے الال ! تی اکیاحالی سے مشی ب ہکوکیا 
کرد پاے پاگم یتوہ مکوخی کک مکرنے اور ہر ےکام ے با زر تن ے باج نیس دتتاتھا؟ دہ کی ےگاہاں ! 
می ت مکوئی کا مک رن ےکا عم دبا تما اور خودال سک و نی سکر ا تاور ہر ےکیام سے ت کور کت تھا اور 
خودا لوک ر7 اتھا۔ (متفق عليهءمشکزٰۃص:٤٤٦ءباب‏ الامر بالملعروف) 

جفرت تغ مدان یرت دہاوی لہ اس حدیت شرییف کے ححت فریاتے می کہ 
ا حریٹ ے معلوم ہوالہ ووعرولں کو اھ ردنچ یکر نااود خود اس پل شہکرنا مو جب عذاب 
جج کن ات مکی نک رن ےکی وج سے سے ادن یکی وج ے رر 
کی کی نی سک ےکا ان کے سیت تن رات کان 
(اوار ار ہٹ.,۰۳۳۹٣٠٣)‏ 

دحوت ون کاف رلیضہ انام دی وقت دا یکوچ ہج ےک وہ اسلا مکی شبت نلیا تکواپنا 
عنوا تن بناے۔ تنازع اور ششتلف فیہ مسائل سے ابتلدای دور رسے ۔کسی ال موضور کو 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
دعوت وش کا موضوع نہ بنا ۓ جوکسی نما ملک و مشر ب کا دائی ہو سوج پیش نف یک 
بجیاۓ شثبت رھے۔ وت وین ک دائرو صرف او ں کک مور ودنہ رھے ۔ بلہ عوام وخوائصء 
اپنےء بیکانے ء فان وفاجر او رکغارو مش کی ننکوبھی دعوت جن د ےکر اسسلا مکی طرف بلاےء 
جاک مق راسلام با نے سلطنت روم وفارس کے تکرانو ںکویلا خوف ل ومة لاک دگو لی 
مخطوی ار سال فرما ئے۔ 


جس نزر نک پاظ ضروری ے 

دنا کے ختلف عم رانک میں جس اسلو بکا مجن عام ے اور دعوت نل کا جو نظام 
جاری سے وہ اپتی ھض خرایو ںکی ہناد پگ چ انا ئی قائل اصلاع سے ہلان طول تجربات 
دمشاہدات سے اور خخاط بک پفیات کے مطا لے ےکی روشنی یس چند سے رجانات ا ھکر 
سان ے آرے ہیں ج تل سے ید ہیں وہر ہک ہحن دن کے لیے اپے مخاضین کے ھزاج وگگر 
سے مآ نگ ہو اض رودی سے کیو کہ دمحوت دِٗ یکا ووا سوب ہشن اروار ٹل را حراءوہ 
7 0 "0 
اسلوبو ںکوبھی اپنان کی ضرورت ے جو موجودو نول کے لی ےکارگ رثات ہویں۔ 

اگ رخخاطب وکیا کا ام دنا پاروکناہ ولوب راوراست کیک پادگی تم نافذنرکرے بللہ ہب 
سے لے ان کی خاممیاں اماک رکرے ١اس‏ کے نقصاان دہ جاہل کو منفعت کے چاہبلو پررا کر کے 
دکھھا ۓ اور دن ود شیا کے انار سے الس کے ممفمراشرات اور امس کے بھ اتک تاج سے روشناس 
کھراۓ پچ رجب عوام الناس کے ولوں یں ا کے نقصانات 2> +وجائس اور ای طور پر 
ک9 ل00 و رر 
پا لکیہ نے اور پبر یرک رن اعم لا ء علیماکہ اس امیس جیا ںکلام الد سے سب متا ےک 
پروردگار عال مکوجب شراب مرا مکرنااور اتل ہکو ا کی جلاکت خیزکییں سے بیانا مقصور 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

ہواتوا ولا ا سکی نخامیاں احاگر فربائی اور نمقتصانا تکوفوان پررا کر کے دکھایاءجناں چہ ارشاد 
ہہالل ے”َْعَلكَكَ عَن الکمْر وَالعیْی قُل فِیهعا اثغ گپیژو مَتلفغ لِلّایں 
وَاثفُهِمَاأَكبَزمن ذَفعهما“۔(القر::۸/۳) 

جم ٹم سے شراب اور ج ےکا عم لو شکتت ہیں تم فرماد کہ ان دونوں یں بڑاگمناہ ے 
اورلوگوں کے پپھ دنیدئی نف چھی ء اور نکیاگزاو ان کےطفعخ سے بڑا ےکڑل بین ) 

انام شرع پر لک رنے کے اخروکی فوائک کے سا تج آنییں اس کے دنیبی وا بھی بتائۓے 
جائیں اوربذز گول کے احوال دواقعات سے ال سکی مایا سبھی بی لکی جائیس کیو ںکہ حصرحاض میں 
انسان قیفر ے کے پھوکرنانہیں چاہتاہاکرک بھی ےتوع حا لکی کک رزیاددکرتاے۔ 

جب حخاط بکومعلوم ہوکیاکہ اکا شر پر لکرنے سے صر فآخرت نہیں ہہ دنیا 
یزرد شغو از :نیا ےکی کو ان کے دل میں رشہت 2 3 70 
نظ رسرکار دوعالم لال الیم میس تر کو پندفریاتے تھے چاے جا ایم سے اپم متلہکیوں 
ثہ ہو تھوڑی تھوڑ یکعلیم د یے اکلہ معلم اس سے ترجب تہوجاۓےء یا یادمرنے اور امام میں 
دشوارکی پیرانہ ہونے ہا اکناہٹ مس وس نہ ہو ہآپ الن تمام باقوں سے اجتتلاب فرماتے جھ 
دحوت وت میس مزاتم ہوٹی ءا تلق سے حدیف پا کبھی ملا جظہفائیں : 

رت جنرب بن عبدائلد ٹلا سے روابیت ے ء اھوں ن ہہ بر ول الیڈد کے 
سا تھے ء اور جم لو کفکرل جوان ہے تو آپ بای نے ہیں جایلے ابا نکی تعلیم 7- 
قل اس ک ےک بھ ر٠‏ نکی تعلیم حصس لکریء پچ رہھم نے قرا نکی نعلیم حاس لک ہتودھاراابان 
زیا کم ہوگیا“(ابن باحہراپل لضغاتم سض ۷۷امکابلالن ذیرنذ) 

بای ول مکی روایت اس طرح ہے حضرت این عپاس زڈل سے مروئی ‏ ےک نی 
اڈ نے حضرت مھا کوک نپیجااورفرمایا: بے شر ک تم ایک امم یقوم سے لے وانے ہوجوایل 
کتتاب سے توانجوس دعوت دوالکس با تکی شہاد تک حجان بکہ ایر کے علاوہکوئی متبو نہیں اور یل 


۷ ۱213۲113501.۷۸۷۸۲۹ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
لم کار سول ہوں ؟؛تواک رود لوگ انس با تکو مان لیس ؛توآشھیں اس با تک ى دولہان پر صرتہ 
فرب ہے تو ان کے مال داروں سےگوء اور ان کے نر رم رک رنہ پچ اک ول وک ان پا ٹک 
بھی ما نیس ,ون کے اجیھے مال سے پیوء اور مو مکی ببردھا سے ڈرو ءبیو ںیک اس کے او راید کے 
در میا نگوئی پرد ہنئییں۔(مسلم شریف:ج: ١‏ ءکتاب الایانء ص:٣٦۳ء‏ جلس البرکات) 
امام اجھرنے اپپقی مم نمی ردابی تکیاے ء مرن یل سے مردی ےء افھوں نے عطا 
سے اور ووابن سمائب یں ء اخھوں نے الع ال ری "رر کی ہیں انھوں نکراک ہم 
سے عدیث بیا نکیا رسول چپ کے صحاب جس سے وہ جوں نے ہیں پڑھایاء دہ لوگ 
رسول الد جاپھ پا سے دو ںآنجتیں پڑ سے ہو تے ؛تددہ لوگ دوس یی د ںآنیتو ںکی لعمزر 
لیے یہاں ‏ کفکہ دہ جان لیے جواس میں ہوتاعلم گل ے۔(مسند ا حمد بن حثیلء 
باب حدیث رجل من اصحاب النی قَةُ) 
شب ے این مسعود ےکہاانھوں ت کپاکہ چس ےکوئ فیس جب ںآیتو ںکی تیم 
حاص لک رتا ءتوائس وقت کک ائسل سے آکے شہ بڑعتاج بک فکہ اس کے معان یجان تہ لہا اور 
اس برعائل نہ ہوجاما۔(طری) 
خلاص کلام کہ دعاۃ سمل نکوپییشہ میانہ روگی اختیاکرکی جاہیے مہ بیانات نے یں 
کرییں۔ اور لوگ اعییزان وسکون کے ساتھ بین سنیں او کناٹ وس شہکرییء اس سے چم 
ان مقاصر بیس تنولیکامیاب ہوسکت ہیں صحالی رسول حخرت عبدایڑربن عباس بن نے فمر 
مایاکنہ جغنہ شی ایک دفعہ وعظ سناؤ ہاگ رنہ مال وتودددفعہ اور ببہت یکر توبن پار۔ انس قرآن ے 
لوگو ںیکواکتا نہ دوہ می ںتھھیں ہرگزایانہ پاؤ لک تم یش سےکوئ یی قوم پر نے جو ابق عبات 
میں مشخول ہو ںتووعنا شرو کر کے ان کی حباد تکیاٹ دوءکیو ںک تم نی ںالتادو کے ءبللہ 
خماموشر ہوجب وو خووعرخل کی ںتوانھیں عرث اجب 0 4 9 8 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
یم الامت مفتی اج یار خان لفن اس حدی فک یتشرں یس فرمات ہہیں: نلچ روزانہ 
دعفا نہ سنا وہ ہغنہ یش ایک یا دو جن ہار سنا َء تچ4 انی دم کک وع نہ سنا کہ لوگ سی رہوچائییں 
اورا نیکاشو نتم ہوجاۓ “_(وعوتنمب رص :۰۹م) 


اوقات دا وا لک پاہراری 
عوام الا سکی تیم وتزیبیت او رت نکی اش انگیزیی شس دعات وستلخی نکی ای خخنصبیت اور 
اس کے ای اوصا فکا ام رول ہوا ے۔ عوام شمحورکی پا غی رشمحوریی طور پر برابر الع سے متاڑ 
ہوتے رت میں اور یہ تاشرانگاگہرا ہوا ےکہ زندگی ھرنمایاں طور پ سو سکیاجاتا سے۔ 
تھی دن اور اسلائی تحلیدرات کے لیے اپے مخاطبین کے عزاج وکگارے ہار 
ہوناء سا تھی احوال 202920 پاسدارک یھی ضروری ےہ زیادددیر کک و نا وشیعۓ نہیں 
کرلی چا کہ یح تکھبرانے کے او راہٹ محسوس ہونے کے ہ تمام ش رکا کا خیال ضروری 
ےکیو ںکہ نت لوگ بہاری کے شکار ہوتے ہہیں ج سکی وجہ سے زیادہ د کک یٹ میں 
سکت ءساتھ بی ساتقھ موم صسرباہگرمااور برسمات خر کا لا طچھی ضردریی ہے ۔ورشہ الن چچزوں 
کے لقخیربڈے سے بڑے دعاقا ومسبخی نکی دعونٹس ے سود ہو حالی ہیں ء اور ٹنیس خ رکک نہیں 
ہوپاتیءاس لے دعوت دن نے کے لیے مناسب اونفات واجوا لکا اخ بک ناضرورکی سے ناک 
دحوت زیادہ سے زیادو مورہواور عوا مکوخاط رخ ادفا نر گی حول ہو_ 
عبد ال'ر بن مود بیا کرت ہی ںکہ رسول اللہ پاپ ہیں لححت فرماتے جے 
یس رٹوں میں آو رج ئل روںیں بحم پر شفقت فریاتے ء ماک ہکنزانہٹ حسوی نہ ہو۔(مسلم 
شریف؛ء ج:٢ءکتاب‏ التو بةء باب الاقتصادف الموعظةءص:۳۷۷)جلس البرکات) 
بفار کی ردایت ہےکتاب اعلم مں (یاب من جعل لاھل العلم ایام 
معلو مات )اورسلم می بھی ےک حخرت عبداوندہ رات لوگو ںکووع ا فرماتے تھے ,تو 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
ان سے ای کت ےکہا:اے اوعمبد الکن ! (یی عمہداولراین مسحودک یکفی شی ) مآ پک 
بات بین کرت ہیں ا کی خوائیل رت ہیں اور ہم اٹ ڈی سک ہآپ جم سے ہرروز حدمیٹ 
با نکی :تواٹھوں نے فربایا: گے ایباکرنے سے مہ چزماح سے کہ می ستمھمی ںاکناہٹ مل ڈالنا 
پین نی ںکر۔ یقرب سرکار دوعالم لن وعظا ونشیبحت میں ہمارے لے ایا مکا خبیال رکنتے 
ج ےک ہکہیں ہمارے ول گھبرانہ جاگگں۔ (مسلم شریفءج:۲ءکتاب التو بةءباب 
الاقتصادف الملوعظةءص:۳۷۷ءجلس البرکات) 
کزاب اعلم میس بفاری وس مکی روایت ےکی رسول القد پا ا نک و ٹحیحت نہیں 
فرماتے حے وعظط کے ذریع ہت وکسے نہ ححضرہوتے ء دوس رب یکتاب چجہاد میس :ھروٹی سے الس بین 
مالک ڈڑاھ سے 27 2 ۴ 0 بی دوہ ضر کرو_ 
اورسسکم میں اس رح ےک ضرت ابو موی اشعرکی سے دوایت ہے ءانھوں ن کہا 
کہ جب رسول اللہ اپ اپنے صحاب میں ےکس یکولعتض معالے کے لے ھت توفر رات : 
خویش ری دو حرش کرو ءآسانی برق ہگ ہکرو۔(مسلم شریف,باب فی الامر بالعیسر وترك التفیر) 
ظاہ ری جات ےکہ جو معلم ہوکیادہ خناضئین وساممتین کے مزیاج وطبیعت سے ٹول پآ خنا 
ہوگاءاس سے ہہ پالینل ثابت نہیں ہہوماکہ سرکار ا فصاحت وباافت ٠‏ استعارہ وکنایہ وخیبرہ 
سے عاری تے (معاذالش) عبیراکہ چند ے عقلوں کا خیال ےم بللہ حضور اَم کے جمے 
فصاحت وبااختء استعارہ وکزاى اور ات ای ہوۓے کہ بڑے بڑے اوہا اور فص 
دبالغا ران رجات ٘ سک ت جمالی اعلی حضرت نے کے اس شعرے ہوئی سے سح 
ڈرے ا گروں یل ہےیے فرب کوڑے بے 
کوئی جانے مھ مس زہاں نہیں ء نہیں بلک خسم مب جاں نہیں 
بماراخقیددبیرے دک ہآپ فصاحت وبلاخت کے چیار تہ پڑ ھھےکیسے ‏ ےکوی اندازشیںل 
تٹیغ فیا اورا تک وقوں میس اپنے انی تی کو ا ام ےکسا تن تی ران رجات یرس بپپ 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

گی فصاحت بلاغفت اکمال تھا۔ حا ہپ مندرجہ ذہا ععدیث پاک سے اندازہلگاسکت ہیں : 

بناری مکی روایت ُیں ہے خظرت الام ریہ نے عردی ےل ا اع را ی 
رسول نپ کے پا آیاء اور عرخ سکیا:اے الد کے ر ول !مج ےکوی ایال بتا ےک ہ جب 
ین ین نف کن جن مان 028 ۶ 
کا شریک نھب راو ذرض نمازمفائم رکھوہ مضروضہ زا کو اواکرواور رمضمان کاروزہ رکھو رق ایا: 
نہ بھی اس پر زیاد یکرواور نکی ۔جب وونٹس تھے روک یا وٹ یکریم ٹنلیٹ نے فرای:اس 
تح سکو خی کے کے ےککس یف سکوائلی نت میس ےک یکو دنا وا سن سک طرف 
بگے۔(مسلم شریفءج:١ءکتاب‏ الڑمانء‌باب السوال عن أُرکان 
اللإسلام؛ص:۳۱ءجلس البرکات) 

اتی ذس مکی ردائیت ان سے مدان رین عم رٹلکات عزوکی ےک ہ ای کن نے 
رسول با سے اپ یکھاءکون سا اسلام مت سے ؟ آپ نے فرماادکھاناکھطا اور سلام میا جس 
کوجاتے ہاور" سکونہیں ان م٠‏ ںگی۔(باری شریفءج:١‏ ءکتاب الإیمانء باب 
إفشاءالسلام من الإسلام؛ص:۹ء جلس البرکات) 

مل مکی روابیت میس سے حعخرت عبداوڈر بن حمرڈڈگ سے مروکی ےک ای ک نخس 
ر ول پان سے ع رح سگزار ہوااو رکہاءکون سا مسلمان بت سے ؟تھآپ بل نے فرمااکنہ 
جس مسلما نکی ز پان اود اتد سے دوسرے مسلما نتفو ظا رہیں۔(مسلم شریفء ج:ء 
کتاب الإیانء باب بیان تفاضل الإسلام وأَى أمورہأفضلءص:۸٦٥)‏ 

اس رسکی اوربھی بہت ىی حدہشییں ہیں ء دمکٹے میل توب کورہ حدہشتیں بظاہ رانک انگ 
معلوم ہوتے ہی گر ایبانہیں ہے۔بلہ سرکار ای بارگاہ بیس سائل ٹس اخ اور جن 
حعالات میں اکر وا لکر تا آنپ پالیکل انس کے مزا کے مطال جواب عامیت فرماتے ۔ 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
ووسوا رک مجواب دی 


یں ٹوون تنق سے من مرا یں لان خلا ےار تھے خوگئی ریت 
سازگار اور مور خابت ہو اسے اختیا رکرنا ایی ء انی میس سے ایک طریبقہ بھی ےکم 
دعاوسبکخن حفرا تکوچا ہج ےک وہ مخاضبین اور سا م٢ن‏ سے خود سوا لکریس ھ رخود بی جواب 
دی ءماکنہساممتیان ففرات جواب وین کے توقہی ںکم انرکم سوا لکمرنے کے بی عادکی ہو ائٗیں ء 
اس ہاب میں سرکار اکا بجی طریقہ تمہ صحاب سے سوا لکرتے ابی ادجوری بات تی 
فررائ گویاپودیی طرح سے صعحہ سک ےگس سکواپھارتے تھے ۔ تل ری خی کے پاارے میں 
سوال فرماتے عالا لک ہآپ ا ںکو جا تچ رج یآپ الع سے سوال فرمات ماکمہ ا نکی ذرات 
و ک تار اور نگ ذانت یش اضافہفربائیں ہاور ان کے مجر و لکوعلم سے -- 
زع ادا خردھ ان لمکا جوا کان سے۔ 

بماری ول مکی روایت ےء جطرت عبدادقد بن عمر زذاأپن سے مروکی ےک جم 
می اڈ کے در میان یس یٹ ہوئۓ تھے ء لیس دا رمجور(ائ یکنی :نوس ارپین ن ےکھاتے 
ہن فرمابا: نے شیک وغل یں سیزورخش تمھجو رکا درشت سے ضرور ان سکی برک تس مکی 
برک تکی رح ہے ء نہ السا کے تے گت ہیں اود شہ بھی تھر تے کہیںء وہ پروقت اپنائجل ا نے 
ر بک اجازت سے دتاہے ہاور بے پک وہ سل مکی رح سے :توم نے بلک وہکیا سے ؟ 

فان حر ےکس ان انآ ای سی ات من کے کون ا 
لال درخت ہے ء یہ فلاصق درخت سے اور ٹیس نے ان دل میس خحیا لکیا جو کاورخت 
ہے می سکہناچاور ہاتھا۔ دک اک ہرقوم کے تر کیار لوگ موجودتےتو میں سے سے ڈدرہاتھاوکیوں 
کہ میں نوجوان ل ڑکا اء پچ میس متوجہ ہواج بکمہ ٹیل دی سا لکا تھااو رتو مکیا سب سے کیٹا اور 
اع سے یا نکروں میں نے ازوبکر وع رک وکنھشک وک نیس دکی انی خاموشش ہوگیا۔ 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
جب ان دونوں نے پچ نی ںکہا تو لوک لو نے پیا ر سول الاند ٹین ا ہیں بتا سے وہکیا 

7۰ سے ؟ وس رکا ری ا ھ۶ پر کس ےت 
جب ہ مکھڑے ہو ۓےتومیں نے ان وال ا گے کہا نر ا! اے ممیہرے والمد !ینا 
نے اپنے دل ٹیس خحیا لکیا خھانہ دہ مچورے تو انھوں نے فرماپاتچھیںٴس چزنے نے سے 
روکا ایی ن ےآپ لوگو ںکو و لے نہیں دکھاء نہ ای آپ کونہ بی الوب رکواور می ںتوایک توجوان 
لڑکا ہوںء یں نے شرم نس و کی اور ناپسن دک یاکہ یہ بولوں پا کہوں اس لیے یس خاموشش رباہ 
تو خقرت عمرنے فرمایاکیہ ضرو رتحھوا راہن ہمارے لے زیاددمحہوب ہوا میرے فلال فا ں کے 


سے۔ (مسلم شریفءج:۲ءکتاب التو بةء باب مثل المؤمن مثل النخلةء ص:۰٣۳۷ء‏ جلس البرکات) 


خی موازنہ 


دعاۃوسجلخین کے لیے ضروری ‏ ےک مخاط بکی عھر ضرورریاتہ زا او سیا یکیفیت 
اورائٴس طور ےعفیل کے انار سے انس دحوت دی ماک بات پاسال ی بک می سآ ےن کہ ش دا 
ومشکلات یش مننلاک کے انیس دول ددال ہلک دیاجاۓ یھو لہ عدیٹ ہاگ ے- 

یسروا ولا تعسرواوبشروا ولا تنضروا؟” آسانیال مم ببچا شد ان ٹل 
بنا کرو خوش ش تج ری دواور ضر و“۔(بخاری شریفءج:١ءص‏ :٦۱ء‏ جلس البرکات) 

اور عر یکا مشہور مقول بھی ے: کلموا الاس غلى قدر عقولھم 

ٹنلوگوں ے اا نکی عقنوں کے مطاق پا کرو “(مر قاہ الفاتیح :کاب الفئن ج:۹ء ص :۴۷۳) 

سرکار اٹپ کے ط ربق ہکلم میس سے ایک ب بھی تاکن بسا اوقات سوا وجواب کے 
طرتدرے ىی تن تتاکہ خاطب 07 الال اضاڈذکرڈٹت تم ہوجا ے اورو ہی 7 
طرف راخب ہوجاۓ- 


خٹلی موازن کی ضروریوں یش لی ؟عر شف پک کی رذن ین ان کی وصْاحت 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
ملاحظہکریں: 
منرت الوامام الما ایا فا سے مرو سے 1ص 
حاضرہوااور عرخ سکیا :ار سول الد یلان !کے ز نکی احجازت دہ ے ءتوجب قوم کے لوگوں نے 
الک با تکوسناتوچندافراداےۓ اور اے زجر نو خکرنے کے او رکہاخماموش ہو چاو ناموش 
+وحا۔ توسرکار بلاغ نے فرمایا ا کو پچھوڑ دو لو سرکار بای نے ا سکوخری بککیا وہ بی 
گیاہ یں سرکار نے اس جوانع سے فرمایاک یتم پیندرکرتے وہ می میں مجن کے پارے 
میس عم دوں دہتحھواری مال ہو ہوا ث کہا غہیں ندایار سول الد جلأا یپ می لآپ پدقریان 
الد نے ھے ای لیے رناباء پچ رسرکار بای نے فرمایا: نس طر تم من نی ںکرتے ای طرح 
دورے لو کبھی ا سکوپ نا نی نکر ےکم ال نکی مائیس جہوں ءک ام ال سکوایقی بی کے لیے پند 
کرتے ہکہانہیں ندرا یار سول الل با مبری جا نآپ پرقربا نتوسرکار پل نے فرمایا تو 
لوگ بھی ا ںکواپقی یڈیوں کے لیے پمن نی ںکرتے۔ 
چرس رکار نے فرب یکا تم ا سکوا تی بجن کے لیے پن کرت ہوطوا نخس نے 
کہاایدکی کم میس اسے پہن نمی ںک رتا یار سول الد امب ری جا نآپ پر خریا نوس رکار بین نے 
فا وو کبھی ال ںکوابتی بنوں کے لیے بین نی ںکرتے۔ 
اسی رب سرکار بے بعد دعکرے پھوچھیءغالہ دغیبرہ وخیرہ کے بارے میں 
7 1و,سسا,س0 
رادکی فریاتے یں ر سول بین نے اپنے بات یس ا کا پا رکھاء پچ رفا بے الن ا 
ان ک ےکنا کو چس ءا نے د لکو پا ککردے اور اس کے فر نکو مہو ومک بنا دے 
تودۃجوان ہونے پراغموں مرنے گے۔(مندامام اجھرین تمل۰رح:۵, :۲۵۷۲ء حریٹ: ۲۲۲۹۵ء 
موستفرطبہ. قاہرہ) 


دکھاپ نے سرکارٹلڈپاپڈ ن ےکس طرح ا شس کے دل سے زناکی خوائ‌ کو جڑ 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
سے یکر دیاہ ان را ےہ کلام اوکفگی موازز نہ کے ود یہ نکی حر ممت زالی اور زامی کےتحلق 
سے وعید والی یتو ںکو وکر کے خی کو مھا آپ تک ےگ لان الع کے لے رت 
سرکار جانا نے اس کے تصورات وجذبات کے 1 ۰ 
سے معلوم ہواکہ دحا بن وقتوں اور من لوگوں کے پارے میں ایل سے رہ 
غمائی ح۔فک لکرس جب حالت اس جوا نکی اس رج ہویٹس کے د لکو سرکار بای نے زنا 
سے پالکل یا ککردیا۔ 
حخرت ابوسعید خددیی سے مردکی ےک افھوں نے فرما کہ رسول الد 
لان چاشت کے وقت مصلبان عبیدکی طرف لک وپ نے عو رتو کی جماع تکود کا ا نکو 
موچ ہکرت ہو فرمایا: اے عو رتو ںکی جماعت ! تم لوگ صدقکردہکیو ںکرش ےک جن 
سے ارک ودوزخ 62 دکھا ےو و رلوں 7 بجھاعت ن کہاءکیوں یار سول ار الو ار یی 
نے فر مایا تم لوگ زیادولن نکر ہہواور شوہ روک ناف با یکر کی ہوہکیو ںکہ میس ن ےت میس 
ر7 گر یک ہمقل مندآوبی کےہمف لکوکھاجِاتی ہو این پالھ نل اور دین کے 
ذریع ہتوعو رتو کی جماععت ن ےکہاہہار ےتفل اور وین میں پک یافقتصاع سے یار سول اید ؟ نوس رکار 
لاپ نے فرمایاءکیا عو رتو ںک یکوای مردول کے متا میس نصف یں سے 8؟ عو رتو ںکی 
جماعت ا کہاءکیوں نہیں رتو سرکمار نے فرمایا: کی یوار کت لک کی سے کیا جب تم حائضہ 
بوٹ بن فا1 ۓ رک ین ری دہ نوا جو رون ےکپائکآنوں غون با لن ارت 
سرکاد جنپ نے فرمایا: کی تحھدارے دی نکی 1 ے۔(صحیح البخاریءج:۱ءترك 
الحائض الصومء ص٤٤٤‏ ءجلس برکات) 


قیاس او ری لکاطربقہ 


نل کان سرکار دو عام ا ان اضما بک قرآن وعریٹث کے علادہ شریعت 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

اسلامیہ کے اکا مکی نعلیم قاس او تل کے ذری ہبھی فرماتے ے ء ان کے لیے ا کی علت 
بھی بیان فرماتے تھ ء جب صا کرام پپد ش راج تکاکوئی معارلہ مشتتیہ ہو جانا اور انل کے احکام 
ال رق رت ان کے کے ا کی انیل تحت ف رات کن فراطل 
یس نیس کیک وشمہہ ہوماء اوریٹس کے کین یس یدگ وی جس سے ان کے لیے ان قیاسوں 
پش شریعت کے راۓ اور منقاصرکی محرفت ہوڈیء اس رع صحاب کرام رضوان اللر تعالیٰ 
میم مین متقاصداعیدہکوبس ان اھ لیت _ 

ا ں تک سے چنداعاد ٹکریہ من در جہ ڈیل ڈل: 

بفارکیکی روایت ےک حخرت عمبداڈر بن خخپااس سے ممردکی ےک تی تبون ہکی ایک 
عورت ٹیاکرم شلاپ کے ا ںآئی اور حر کیک میری ماں نے کن ےکی نما یگیاءوہ 
یرک ریہ یہاں کت ککہ ال ںکاافقال ہ وکیا کوک ایس ابق ما کی طرف سے ککروں ؟ یرم 
لا نے فربایاہاں تم اق ما ںکی رف سے ککردہ پھلا با کہاگ تھواریی مال کے ذمہ فرش 
ہو اوک یتم اسے اداک ری ؟قواس عورت ن ےکہاءہاں ار سول الد ! تو کارب نے فرمایاکہ اد 
کے اس ف یکو اداکرو ج ھتحھاریی مای کے ذمہ سے کیو ںکہ الد تھی ا کا زیادہ تی دار ے_ 
(صحیح البخاری ج:١ءباب‏ ا حج والنذر عن المیت والرجل بحج عن امرأة ص:٥۲ء‏ مجلس برکات) 

لھک ردابیت یل ہے رت ابوذد خفماری ا سے روایت ے 7 22ء کے 
اتاپ من ےپ نے عرش کیک ما رو لالہ ای شوت نفثرلات اجیژ نآ گے بین گے 
ددویے بی نماز پڑحت ہیں میس کم نماز پڑحت یں ء ددو سے بی روزد رھت ہیں جیسے جم روزد رت 
ہیں اور اپنے ال ما لکوصد کرت مہیں جوا نکی ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے کیا ای تال ی بہارے 
لی کوک ایی نہیں نایا تے جم صدرقکریں؟ فرا یا یک رج ہرک 0 
صدرقےء ای طر بچعلال یکا انم دیناءبرائی سے روکنااو تم یس سے ہ رای ککا بن صرڈدے۔ 

توسابرنے ع ری سکیا یار سول ال اکیا ہم ٹیس ےس یکوعلال شبو تآ ےوک اس کے 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
لی ےکوئی اج سے ؟ توس رکا نے فرماپاکہ چھلااک یکو تا میا ری کی وجہ سے شہو تآ ےلوکیا 
اس تا مکاری پپدگناہجہیں ہوگا؟1سی طر اگمراے علال طور پر ش ہت لوان کے 00 
ے۔(الصحیح المسلمءج:۱ء؛ص:٣۳۲ءکتاب‏ الزکاۃء باب بیان ان اسم 
الصدقة یقع علٰ کل نوع من اللعروف) 
تودکچھا آپ نے کیہ سرکار ال کے صاب کرام رضمون الد یم مبمحین ے لےکس 
رر تام فی سے جواب ار ادف مایا دوٹوں معاموں بی ۔ بیہا لک ککیرانغ کے لیے دو بات 
داع ہوکئی جوان کے وہم وکمان مھ بھی تھی قومہ اس شہوت مش رو کی مثال ہے جس میں 
ھرد لیے اجروفواب ہے جم کے بارے میں بہت سمارکی حد ہیں ہیں- 
تی اورائکن ماج کی روایت ے: 
حطخرت سعدبن و فائ سے مدکی ےکر سول پیا 0.۲ 
نے کے بارے ٹیل اپوچھاگ اتوس رکار نے اپنے اددگرد کے لوکوں سے اپچراک ہکیا تر چور 
سوکنے کے بعد وزن می سکم ہوجاتا سے با نوصحا کرام نے عرخ سکیا با ہتس رکار نے اس 
سے روک دیا۔ می بات پالٹل ظاہروباہرے اور ٹیپل ا سکو جا بھی تے تو رکم 
ہوعائی سے جب وہ سوکھ لی سےمکیو ںکہ سرکار کی زن دی جزیرۃ عرب می سگزدیی جو 
دن انا مات ٍٍِِْٛ ٛ ٍ9 9 2 پرشنی نہیں نہ لان پچ ربھی 
یڈ نے صحا کرام سے سوا لکیا کی زور س کی کے بعد ہوائی ے؟ متقصد اپنے 
اص٤حاب‏ اور سا مجن وتنہکرناتوااور جو رکوختفک سے نی کے بارے ٹیل روک ےکی علت و 
نس ( یت کم ہونا) سے سوکنے کے بحعدء الب ایی چائ نی ںکہ ال لکو اس کے نے پیا جا براجر 
سرابرکیل ےتوس بکار نے ا جح مکی علت سے ایی ںآمگا وکیا جوان پ رخ یھی ء لیس می قاعدہ فو 
شا میں آنخریی زمانے تک /ہا۔(جامع الٹرمڈیءج:۱ء ص:٤٣۱ء‏ باب ماجاءفی الٹھی عن 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
زین پر شک لغ اط ربق 


موچودہ وور اٹک رکا از ےنت ان نے مخالنفی یکو اس کے ڈرلہ زیادہ ے زیادہ 
مان بچچایا جا سکتا ہے ء و ہیں دی نکی تلنغ پر اپنے افکاد ونظ ریا تکی تر ہیل کے لیے اس سے 
زیادہ مو کوئی دوسا ذد بیع نہیں اس لیے ا کو اضانیکام ن ہبج ےک ربللہ دوام بر ےکی ضرورت 
ہے۔ پھر یھی سکم ہےکہ ہوارے خاطب حفرات میں لت لم وقرطاس سے نہ آخنا 
ہو یں ءکووہاں ضرورت یش اآلی ے تو پریڈیکل اور تصاو ر کے ڈراہ ھا نے 1ر نی 
رک ینغ مو ہونے کے سا۱ ساتھ در پاجھی ہوٹی ے۔ 

ض اوتات مع مکانیات ٹل کا یہ اندا زحلن بھی ربا ےکہ لت امور ومعانٰیکی 
توف زین اور مٹی پد خا کر فربائی کیو ںکہ ا رح صحا کرام سال اور جلسی با تکو 
جھ لیے ہی عدی کی رشن میس ایک مثال اور ملا حظ رک ری : 

ضرت عہد ارڈ بین مسحو کت ہی ںکہ تو رام بای نے ہمارے سا ای ککمیر 
0133 ا سککی کے وائیس ایس چنرکمیری ھن ہیں اور فربایا: یہ رات 
ںی اور ان شیل سے ہم ر اہک راس پر ایک شیطاان ے جو( لوگو ںکو)ا تی طرف بلا جاےء او پھر 
آپ پان ےا ںآبی تکی حلاوت فا ”وَأنَ ھٰدًا َ اطی یما اہو 7 

لغوا الشُبْلَ رق يِكُمْ عَنْ سیل ذٰلِكُمْ وَضکمْ یہ لَعلّكُمْ قلوں“ورے 
دوج سو تھی 
تھی حم فرما با ہک ںتسحیں پپر ہی گا رییالے۔(مشکاۃ الصابیحء ج:۱ء ص :۰٠ء‏ مجلس البرکات) 
رت عبد ال بن عباس جیا سے مروکی ہے انھوں ن ےکہاکنہ رسول الد نین 

نے زین پر جار خ شی ء اد فرماادک یتم جات ہہوکہ یس نے ان خعطو ںکوکیو ںکھیی؟نولوگکوں 
ن ےکہاکمہ الد اور اس کے رسول کہ رجا ہیں ءتورسول الد با نے فرمایا: ان چارول 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

خلوں نے اانع خواشن اسلا مکی جانب اشاردے جوجلتقی عورتوں میس سب سے اض یں ء دی 
ہیں :خر بیہبشت خو ابد فاعم بشت مہ میم بعت ران او رآسیہ بعت ھراعمء جوف عو نکی بیو گی 
تھیں۔ (مسند امام ا حمد بن حنبلءج٥٤ءص:۷۷ءرقم‏ ا حدیثٹ:۲۹۰۱ءمژ سسته الرسالة بیروت) 

رت عبدال بن مسحود سے مردی ےکہافوں تےکراکہنمی با نے 
زین پپرایک ایماخ اناج چوکور تھاءاور در میان ٹیس ایک الیباخ ایاج اس سے نار تھاء اور 
چنربچھوے چھوئے خعلو کے جو اس خا کے میس تھے ء اس حجانب سے جوئے یس ہیں۔ 

رفریایا: ری اسان ہے۔ اور یی ال کی موت سے جوا پاوگھیہرے ہوئے ے۔اوروہ شا 
جو ار یش تیادہ ا کی امیرے۔ اور ی یھو ٹے خطوطہ ان کے حوادحمات ہیں ءتوانمان گر 
چیہ خڑ سے چو کے کا تو سکو این نت ےگا ذوضریے ےچ ھک الو جگئی فان دز 
اگمرخمام سے چو کگ یتو ا ںکوبڑھاپاآ لے گا۔(بخاری شریف: ج:٢ہ‏ ص:۰٥۹ء‏ کتاب الرقاق؛ باب 
فی الامل وطولهءجلس برکات/ ترمذی شریف؛ ج:٢ء‏ ص:۸٥ءابواب‏ الزھدءمجلس البرکات) 

رسول الد اپاپ نے اس خیط کے مم کودائ فریادیاجو زین پان کے سا نے جھے ء 
کہ دی کے انمان اور ا لکی دج امییروں کے در میان اچان کآنے والی مموت عائل ہوجالی 
ہے۔ یایٹھاد ین والی بھارکی ارد ین والا بڑھاپاآجا نے تو کارب" نے ا نکی امبیرو ںکو 
تقی اکر اج ان کآنے والی مو تکی تیار یو لک جانب انھاراءتو ریہ سے اس مل کی وضاح تکا 
ریہ جو زین اور می پرے ء دعوت ولغ کا یل ربق بھی دعا کے لی ےشعل راو سے۔ 


سام خکولوری طرح متو جک رنے کے لیے گار پالقد ا 


وا وب خی نکی بات ا یوقت موتاو رکا ثابت ہو کی سے جب مخاطب اپریی طرح 
ا کی ججافن موجہ ہوک چس ہو کروی کے ایز نت آوز وط ول نے ریت اف 
رب خاط بکوازپقی جائب متوجہکرنے کے لے دعاقووسجلخی نکو جا جےکہ ایق پاو ںکو پالنل 


ےھ 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

اوت انداز اور لیس ز پان یس بین لکرےء اس کے او ربھی لف طط ری ہیں اور وہہ سے 
کہ ایک بی سا تج خر سوال اور منظ کو بین یکرے سے حروف مقطحات سےکلام ش رو ںحکرناء 
ال الرء طہ دشیرہ۔ 

سال تَاأيھَا لَنْتَ ئن اکم تما تنک مز عرب كت (الصف:١٦/١٥)‏ 

(ترجمہ) اے اب ان والو! کیائٹس بتادوں دہ شارت جو ہیں درد ٹاک عراب سے بالے- 

ای ط کسی من رکون لکن یے :او نت اش َنرکھا. (الرلرال:۱/۹۹) 

(تجحمہ) جب زین تھ رتھ ا کی رھ تھا دی جا ۓگا۔ 

او ھی ال طلر سی بہت سار آیتیں ہیں ج نکوبیا نکردےتوسامع انل تضور ہنی 
کے تر کرک میاف کان لک نے رتا کزان کے اعد کپاڑے۔ 

اس لیے دعات ومخی نکوچا ہ ےک الہ سجقی کے اج زاکو انف ادکی طور پپ ال کی خویوں 
اور فوائکرکوبیاا نکرے جاک خاطب کے ذ ہم نکواوتھل اوھ چھک نک یکوئی تصورت پیش ہو 

جیہاکہ نچ یکریم پان کا طربیقہ خھاکہ بن وقتوں میں ای فلا مکوتزر ارشادفرمائۓے 
ارس جواب دنن صصرف اور صصرف خاط بکو اکر ر کے ساتجھ متوج ہک رنے اور ا پان تکا 
اما مر نے کے لیے ج لک آپ خر دتنے ساتھ بی سا تد ابق پاتوں میس مبالض بھی فر مات ء 
کہ خاطب ا کو ہتول یپجتھ نے اور بای اسے یدک نے حییراکمہ عدبیث پگ مل ے : 

حضرت معابن بل سے مروی ہے دوفرماتے ہی کہ میں سی سفرمیس بی ا کا 
ردیف اہ میہرے اور الع کے در میا نعکوئی چڑحائل نہ تھی راو ےکی نکی وی ا ے 
سے اف ے مر کا یف زار 01 نز ا لن گیا 
لوپ بای نے فرمایانہ اے معاذ !لویل نے خر کیا: لبیك یا رسول الله وسعديك 
گو اشن مہ بی لاڈ نے ندادیی اور رت معاذاینے متوجہ ہونےکاشوت دن رہے۔ 

اب س رکا ای پاتو ںکوبین لکرت ہیں اود فرماتے بی کہ اے معاذاکیام جا نے ہو 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

کم الل کا اپنے بندوں پ اض ہے ۔آواکھوں نے ع رخ سکیا: الد اود اس کے رسول بش رجا نے 
ہیں پچھ ری ما یی و بنروں ری ےک دہ( نی بندہ) ا کی عاد تکمرے 
اورک یکو اہ ںکاشریک ن تمہ رائے۔ 

پچ یک لح گز راوس کار نے فربایا:اے معاذین جتبل !اخھوں نے اپپق یلوج ہکا شثوت 
نے ہو لبیک یا رسول اللہ وسعدیک مہا ء ندب اکا نے فرمایانہ جات کہ 
بندو کا اللہ پرکیا طض سے ؟ تو انھوں ن ےکہاکہ الد اود اس کے رسول بی رجات ہیں کوٹ 
یں ہے را بتروں کا تی الد پر ےکم وہ اشن ال ش)یٹرو لکو عزاب ث دے۔ 
(مشکوۃشریف ص :۱۳/ ١۱ء‏ کتاب الاآممان) 

توآپ نے دکھاکنہ ایک با تکنے کے ل ےکی بار صحال یکو موجہ فرایاہ یہ طریقہ دعا؟ 
و خی نکوبھی ابنانا چا بے_ 

سال ایک جواب متجژد 

بی بات بالوں پالوں میں بی بہت سے ضروری مسائل جمادیے ۷ بی بلاط کا یہ 
طریقہ ببت بی دل چپ سادہہفطری اور مفید تھا۔ تبایت ب گنی سے ابنا مطلب 
بیاان فرمادینے تے۔ اور ہو نا ھی بی جا ےہ جب اط بکوکی بات و جیشھے تو اس کے 
من میں جخنی یں آسکتی ہیں سب بتا دنا جایے نہ صرف می کہ تنا پچھاجاے اتا دی بتا 


نے پ تاکن جاہے۔عدیث پا ےء تعلمواا لعلم وعلموہ الناس:”م 
و 

لی نکی بتائی ہوک جن باتوں پرلو کم لکرتے ہیں ءتوایما نہیں ےک صرف عائل 
بی نوا ب کا شی ہوگا بل بتانے وا ےکوکھی انطای اج اتا سے جقنائھ لکرنے وا ن ےکوہ جی اہ 
عدیٹ پالگ ے؛ العالم والمتعلم شریکا ن فی الاجر قوج عال اود محلم اجرش 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 

دوٹوں شیک ئیں۔( سان ابن ماج ص:٢٠)‏ 

این می حضوربڈ کے اس و نکی ری چب رو قکی جا لٹ یکو زیادہ سے 
زیادہ ےلان یکی فضائیس ہولی چا ہے مہہ رایک اپنے مانی عیب رکواداکر کے ۔المبن شا کو ہر 
عال یں برقرار رکھاججاے۔اپودییتوجہ اور خندہ پیا ی سے بات کا جائۓے۔ 

کیو ںک ہی با کے عبت تمس سے ب بھی خاکہ سال جنتناسوا لک را اس سے زریادہ 
اب عنایت فرہاتے ء جب بی ویک کہ سوال سے ذیادہ جا کی عاجت ہے۔سائل پیٹ یکریم 
لن کی مہرپانیوںپیاکمال تمہ مین اور ان سے تن 
عدیث پا کگجیا ہے .جس سںکوامام ماک نے موطااو رام ایودا دن اتی سن میس بیا نکیا : 

(۱)حضرت الوب یرہ ٹلا کت بی ںکہ ای کن نے ٹیکریم پاٹ سے سوا لکیا رتو 
کہایار سول اللہ بل ابم سصندری سفرکرتے ہیں اور جھارے ساتھ تھوڑا پائی ہوا ءتواکرپھم 
اس سے وضوکری یتو ہم پیاسے رہ جائیش گے آوکیا ام سصندر کے پالی سے وض کر سکت ہیں ؟تو 
رسول الل جاپڈن نے فرمایا: سحندر کا پانی پاک سے اور اک کا مردار علال ے۔(ابو 
داؤدص:۱۱ءکتاب الطھارۃ باب الوضوء باء البحراشرفی بك ڈپو دیو بند) 

بس پیا یلین اس سحندری سفرکرنے وال ےکوسندر کے پا ی سے وضو کات متوبتایای 
کہ ا کا بای ماک سے اور اس سے وض وک رنادرسہت سے مریہ بی انی ے ام فص ۳ 
رای فا کیہ اس کے مردار کے پارے می بھی جتاد ماک ہیں اس کے مردا رکا محاعمہ ائ چھ 
مشتبہ نہ ہوجاۓے۔کیو ںکہ یہ معاملا تاکشرسندری سفرکے در میان بین لآتے رت ہیں نی 
لپ نے اس کے لیے وا فربادیاککہ سحندر کے مردار علال یں ان میاکھانا اود اس ےکم 
عأک لکرنادرست ہے ۔ بہال تحور مکی کہ سسائل نے صرف پای کے بارے میں اوھ گر 
مرکا رای نے امس کے عمردار کے بارے می ںکھی تتادیا-۔ 

یا لمرس) بلااکن ۶ رر سس یی ےکیا اور سائل 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
(سمنددریی سفرکرنے وانے )کے لیے مہ چان اٛھی ضمردریی ہے ۔کیو سک اسااووقات جان اوج ھک یا 
انجانے بی اس کےکھان ےکی ضرورت یی لال ی سے تولوگ اس ےکھاتے ہیں اور ش بھ یمر تے 
ہیں ءایاکرنے می سکوئی مرن نہیں ہے ۔ائی ع رب دو سر حدیٹ پاگ ے- 

(۲) حضرت این عیاس بپاہنٹ ٹیا اک جلاٹاپٹ سے رواب ت کر تے ہی ںکہ مقام 
منردھا میس یریم باون ندسواروں سے نے ؛نوآپ جیل ٹین نے ار شادف مایا ہ تم لوکس 
قوم ےعلق رکھت ہو؟انھوں نے عرخ سکیا :ہم مان ہیں ۔ پچ ران لوگوں نے ھی میں 
سے ع رق کیاء آ پکون ہیں تپ نے ار شادفرایا:یٹش ال کا ر سول ہہوں ۔آوایک عورت 
نے تضور جلا ےکی جانب ایک بی ہکوبلن رکیااور عرخ سکیاءکیا ال پرجھیارچ سے ؟ آپ ج لیکن 
۶,۵ اں !لیکن ا لکااج کمارے لیے ہے۔(الصحیح لسلم ج:١ء‏ ص٠:٤١۳٣؛‏ 
کتاب ال حج؛ باب صحةحج الصبی واجر من حج بەء جلس البرکات: مبارك فور) 

وو کے می یں نے اس عور تکوسوال سے زیادہ جو اب عنایت فرمایاء اس عورت 
نے صرف پچ ے کے کے بارے میس پپچھاتھاک اس چچے کے لیے ہے یاکہیں تو رکار نے 
جوا بآودیا یکچ کے لیے ہے اود مزی بجی فیا ینہ ا لاجم تیرے لی ہے سکیویں 

کہ عورت ال ےکی ولیہ سے اود الس وجہ سےکہ ال کے اس صن نت لکی اق را نے وانے 
والدی نکر ے۔ 


مستل کی ابھیت او رشحم پاش کا اتال 


جب با بل ڑم نے اصوا بک ونیم وت تونق اوقات ابآ بات ٹل زور پیر 
رے یس لخذیت ومک راہ رکرتے اور عنم کی انت ار کے لیے اس سکی ابق اش عم سے 

رما یراہ مندررجہ زی حدرٹ سے معلوم ہوسا سے 
حضرت ااوب رر ٹنل نے موق ری انھوں تن ےکہاکمہ رر ول الللد یں نے 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
فبایا: میس کے قش قدرت میں میریی جان ہے “کہ تم لوگ جنت میں اس وقت تک 
داشحل نہیں ہو کے ییہاں ک ککہ ابیان نے 11ء اور تم لوگ اس وقت کک مومن خہیں 
ہوست ببہال م کک ہآبیں یس بھاکی چا رگی کے ساتھ ر ہو ہتویا یش ق مکو ایی چیزتہ بلادوں 
کہ جب تم ا ںکوکر وت و یں میں عحب تکرنے لو کے ہ فرمایا لا مکو پیا کہ یں ٹیس عحبت 
بڑھ جا گی۔ 
(٣)حضرت‏ الس تل سے مردی ےء افھوں ن ےکہاکہ ٹیکمریم مٹیا نے فرایا: 
یس کے قب ہقدرت ٹیس میبرکی ان ےک کوک بندہ اس وقت کک موم ن نہیں ہوسکتاء جب 
کک و اپنے پڈ و کی سے محبت نکرے اہ فرمااکہاپنے بھاٹی کے لیے وی پہندنہکرے جو اپے 
نگ کرجا ہو۔(الصحیح مسلمءج:١ءص:٥٠٤ءکتا‏ ب الإمان / باب الدلیل 
عِٰ ان من خحصال الإان اُن بحب لأخیه السلم ما بحب لنفسه من الخیر) 
(۳) ای شر خزائی پل سے مردی ےکہ رسو لکریم جلاڈ نے فرمایا :ندرا دہ 
موصن نہیں اس طرں جن رجہ فرمایا۔ نو بی نین سے لیھک یاکون ار سول الدد ٹا ؟ 
٢ی‏ و شر سے ان کا پڑوسی فو نہ رے “.(صحیح 
البخاری؛ ج:۱ءص:۸۸۹ء کتاب الدب / باب اسم من لا یامن جا رہ 
بوا ئقەء جلس البرکات:مبا رك پور) 
عدیث پاک می جم یمان سے ن کور سے ووصادق اور مصدروقی سے نیا 
ا ںکوہیا نک یاگییاسلا مکی اہریت بیا نکر نے کے لیے جک اسلا میا شمحار ے ‏ میں ٹیں عحبت اور 
صلہ رک یکو مقبو طکرنے کے لیے ء پپڑ ھی اور چھاٹی سے لزوم محبت پر تی ہکرنے کے یےء 
پڈ و یکواذیت ڈلیف دی ےکا قباحت پر تی ہکرنے کے لیے ۔ برہاں ک کک یبا اس 
سے ابا نک فی فریادی جم نے می ھٹا کے اس حدیت پیل نمی ںکیا۔ 


۷ ۱213۲113501.۷۸۷۸۲۹ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام 1351 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲۹۱۷۳ 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
رس امتےان اپنے اصحاب سے سوال 

رج سے چچودوسوسال لے سرز ین عرب میں پادکی عام بن ۴ھ سا 
لف الوارغ واسالی بکوا جاک رکا خاء دحوت دح ایک نو الوب جیا ےک اپنے اصحاب 
سے لفرض انان سوا لکر تے امہ انداذہ ہو ےک ہآپ نے جونلیم دکی س ےکی اس وہک 
معنوں می ں تق وہ اکر کے ہیں انیس اور انس سے صحاب کرام کے ذہنوں او رکرو ںکاانداڑہلگانا 
بھی مقصود ہوہاء یں جب صا گرا مآپ کے سوال کا جواب دے دی لد آپ بل انام ۶م 
صحا کرام کے سامئے ال نکی تم ریف فرماتے جس سے اا نکی حوصلہ افزائی ہی ءاور ان سے 
عحب تکاانہارفرماتے ءا مین شیل دو حدبیث پاک ملاحنظہ فرائیں : 

(۱م س لم نے حضرت الیا بی نکحب لن سے روابی تک ؛ ش نک یکنیت الو متدر سے 
افھوں ن ےہاک ر سول الد ڈیا نے فرمایا: اے ابو منفرر !ا کلام مق در سک یکون کی آبیت اس 
معاملہ یٹس تحھوارے نزدیک زیادہ ابی کیا حائل سے ؟ع رخ کیا کیہ اید اور اس کے ر سول مر 
جات ہیں و بی نے فرمایا: اے ابو منرد! کون کی آیت قرآن مق رسکی تح ارے 
یآ ]و ات تی سے تورادکی فرماتے ہی ںکمہ میں نے عرخ کیا:7 ال لا اه ال هو 
آلی یتوم“ (پارہ:٣‏ سورہ بقرہہ آیت:٢٥۲ء/‏ الصحیح لمسلم ج:١ء‏ ص:۲۷۱ء کتاب 
فضائل القرآن/ باب فضل سورۃ الکھف و آیةالکر سی؛ مجلس البرکات) 

رالوکی فریاۓ ہی ںکہ رس ول الیرجی ان نے بے ا سن سے گان ہو ۓے فرمایا: 
اےالومژر! تر لم تھے خوش ر کے (یچنی مبارک ہو) 

)۲( (رھتتل وی ولغ ظرے سام طلے رسارس 
کی عحضرت معاز بن بل ن کہا جب مھے رسول جیلٹان نے ھن کیج ا لویکھ سے رما یاکہ اے 
معاذاتھارے سات کوکی محامل ہآ ت گا وکیے فیصملہکرو گے تع رح سکیاکہ می کلام اید کے 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
ذراجہ فیصل ہکمروں جاء لوس کارب نے فریا اک ہاگ رت مکتتاب الد می ال کونہ پاوتو؟ حر کیا 
کیہ سنت رسول کے ذرجہ فیصل کرو ںا :کر سنت رسول می ںبھی نہ پا و تو؟ع رح کیاکی ٹل ایق 
راۓ سے فیجل کروں گا اور اس میں کول کوتابی خنہی ںکرو ںا ہتو راوئی کھت ہی ی5ک 
رسول بلٹ نے انے دست اقدرس سے مب راسین تحچتپایا اور فربایاکہ ا مت رٹیل اس دحدہ لا 
یی سی سے ارول سے اس کی کی اق کی ا کے زیو لن کو رض 
رت ے کاب سز و اساوی ئل الرککببارتی 
دیاش نعکوض کا کے غیت تل کو ان و ان جرف لک ک ےکی 
بخت ضرورت ےکیو ںکہ لوگ مخلف اذبان وافکار کے ایک ہوتے ہیں ء جس راپ سے وہ 
مضمنن ہوں شیج کی روشنی میس یں ط یتو ںکواختیا رکر کے ا نکوح کرک جا ےہ اور 
گاہے پگاسے ا نکی حوصلہ افزا یھی ضرورکی ہے۔ امہ دی نکی جانب رخبت پویرا جو ءاور لن 
گول تو ا ماف 
مہ 7ھ +ھ+ 
اتھ اکن دعاپکڑے مسمائلییا سح دنو 
دائ نشم ڈگ کی داعیانہ تو پ تو مکی کہ ابفنۓ مصاجین تحقی کو ہنم سےگہرے 
سیاوادر کے شعلوں سے بانے کے ےکی ے کے ط رت اخقیار فرماتے : 
یاکریم جن بسااوقات اپنے صحا کو باتھ اورکنداپھڑ کے نعلیم دپے جاک ان 
کاذوٹی زیادد سے زیادہ اصرے اور اس پچ ڑکا خوب اجقمام ہوی٘ سکیآ پنعیم فراتیے تھے ء اس 
رب مخاطب اورک خن دی کے سا تھ می با کی حجانب اپنے سماعت واصیرت او رق بکو 
لاد تاء ماکنہ بی اڈ کی نکی ہوک چزد ںکوزیادہ مج کے اور خوب پادکر کے 
اس سال بیس احادیٹ پاک ملاظ فرمائیں : 
(ا) رت امام بماری سم نے روابی کی رت عبدا دربن مرو( غیرد امو مچھر 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
سے ۔ووفرماتے ٹی سکمہ میں نے ابین مس ود رن کو کے بہوۓ سناکم رسول الد پٹ ے 
بے تہ رکی نیم دی اس حال می سکہ مب ری شچیی سرکیارکی دووں تمیایوں کے در میا نت ء 
جس ط رع اس سے چ یل قرآ نکی نعلیم د یھی 

التحیات للہ والصلوۃ والطیبات؛:السلام عليك أیھا الٍی ور مة الله 
وبرکاتہ؛السلام علیناو عللٰ عباد الله الصلحین؛شھد ان لا إِله إلا اہ 
وأ٘شھد أَنْ محمدا عبدہ ورسولە.(صحیح البخاری: ج:۲ء ص:٦۹۲؛‏ 
کتاب الاستیذات باب الأخذ بالیدین؛ لس البرکات ار فور) 

(۴) ححضرت امام ناری وترنزئی نے رت عبدالشد بن عم رڈنا سے روای تکیا۔ دہ 
فرہاتے ہی یکس بی ایی نے ممیر ےکن رج ےکوپلڑا اود فا اکمہ اے عبدرالقر بن عمر! دنیامی ںو 
ایآ ایا ائے ویک ہتوگوئی مسافر سے پاراستنہ ٹ ےکمرنے والا (تمذری ٹل اتاادورےکہ) 
اور اي ۓآپ کومردو شا رکر_ 

این عمرہاکرتے ت کہ جب تم شا مکرل تو کا افنظار متکر اور جب تم کرو تو 
ام کا انظار سکرو ءاپتقی صحم تکو مر کے لیے اود اپقی زندگ یکو موت کے لے وقف 

ممردو(تریی میں اتھا اور ے )کیوں کہ اے عبالل !تو چاننا خی ںک کل تیرا نا مکیا ہوگا۔ 
(صحیح البخاریءج:۲ءص:۹٢۹ءکتاب‏ الرقاق باب قول النی لُِ 
”ری ال تا کان ظریب ارعار سیل غلس الرقات) 

اىی جاب میں ب بھی ےکہ یکریم ٹل نس اوفات ان ینس صحا کی را نکو 
تحچتقپاتے سے اور مت ہکی نوعیت انم فراتے تے_ 

۷۳ ام سلم نے روابی تکی تابئی یل اروعالیہ سے وہ کت ہیں ام رابن زیاوماز شیںل 
ماف کرت تے یں میرے جامس خعپلراالد جع ضاع فآ تن ءکوبیں نے انھیں ٹڑٹھنے کے لیے 

کسی یٹ لکیاءیس نے ان سے ائن ذریادکی تانر صلاق کے بارے بی منرکر کیا یں انھوں 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
نے اپنے ہو فکوداشول سے دبایا اود ممہرے دائن پیر ماراء او دکہاکہ ٹیل نے ایوذد سے اپےے بی 
سوا لکیا تھا جاک ہتونے مج کیا ۔توافھوں نے بھی ممیہرے ران پہ مارا تھا جیاکہ یل نے 
ترے ران پھ ماراء او رکہاکنہ یں نے ر سول الد سے ایی بی سوا لکیا ھا جج اک نے 
یھو ےکی تو رکا رن ھی مہرے دالن پپد لے بی ماراجیسے یل نے تیرے دالن پرماراء اور فرمایا 
ما زکووقؤں پر اواکروہ یی ںاگ رت لوگوں کے ساتھ رہواور نماز(جمااعت بک کاوقت ہوجاق ۓےتوان 
کے سا تھ نماز پنڑھ لو اود یہہ رگزن ہہ کہ یل نے نماز پبڑھ بی بط ااب نہیں پنڑموںگا- 
(الصحیح لمسلمءج:۱ءص:۲۳۱ءکتاب اللساجد؛ باب کراھة تاخیر الصلاۃ عن 
وقتھا الخء مجلس البرکاتمبارك فور) 
آ بھی مخ نکوچا ےک ود الامکان خخاط بکو پیار ومحبت ے پا تق سکڑ کے مل کی 
مو ونش رن کرس ماک خاطب خواوکننا بین رد لکیوں نہ ہووہممیلنکی اس شقن تآمیزی رما اور 
طر زج سے موم ہوجاۓ اور پیسلم ےکس نے س رکا پ2 کے طرزح لکوایذایادہدنیاد 


آفخثرت دونوں می ںکا میاب د باھمراد ہوا۔ اور انشاءاللدخیا مت مک و تار ےگا- 


لے اما لب ۸م ۰ل کانراز 

ا سن می حضور شا کے اس وپ لیم وخ سے بہت در کک “ہیں رہ مائی لق ے 
کہ سیق کا متصد تین اور معلم و عم دونوں پر خوب ھی طرح وا ہونااپیے جس چک 
آپ لیم دیناجچاتے و ہآ پکی نظرمیں تی نتوہوی بی متصمین پ ربھی ظا ہرد باہرر بتاتھاہ وەکیا 
سیک رے ہیں ۔ او اتوس رکا را مطاقا سی ےکواجمالا پان فرماتے۔ مخاط بکوسوا لکرنے پھ 
اچھارن کی خ رخ سے اود ا نکواکشا فک جانب رشخبت دلاتۓے ہہوۓ پچھربڑ ےکی کے سانتی 
ا سکی یل فرماتے(ہ رز کو ایک الک بیان رات ) مہ مخاطب کے دل میس مل پرے 
طور پر گیل ہوجاے۔ اس طرح سے مل فو اکرنے اور یگ کے امکانات زیادہ ہہوئے 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
ڈں۔ چیا ,29 
جخرت امام بای سکم اور این ماجہ نے ردای تک ء ضرت الس بن مایک ڑل سے ء 
رت انس بن مالک کے ہی ںکہ ایک جنازوگزراقو ا کی تحری کک یگئی لی نب یکر ٹین 
نے فرمایا رس تر کرک اک ا تی کیک ینوی کر 
با نے فرایا: وجبت وجبت وجبت۔ 
جب ححظرت عمرنے ال نکلران تکوس ناو اما لکی وجہ سے سک میں پ ڑگ ےو حضرت عمر 
ن ےکہایارسول الد !میرے ماں با پآپ پقربانء طیلہ جنازے کےگزر نے پپدلوگوں نے 
اس کی تر لاپ ا زا رت رت رجت ازوصھرےجازہ کل 
نے پر لوگوں نے ا کی برا کی ج بب یآپ نے وجبت وجبت وجبت کالرایا؟ 
تورسول الد یٹپڈ نے فرما اک ہتم لونک بج سکی تر فکررسے تے اس کے لیے 
009ء07 برا کرے تے ا پردوز واج ہوگئی تم لوک اللہ تعالی 
کےکواہ ہو زین میں اس جھل ہکو لپ نے تین مرحبہ فربایا۔( الصحیح للمسلمء ج:١ء‏ 
ص:۳۰۸ء کتاب ا جحنائز؛ مجلس البرکات) 
(۴)اما مس لم نے روابی تک یکہ ضرت معبدب نکحب جن ماک سے اور انھوں نے الی 
قناد ین ری ڑا ےک وہ ا لین مین با تکگررے ےکہ رسول الندجیی ان آے 
خناز نے کے پا ہے ار توف ان رخ مستر یھی ے اور 7 ا مہھی۔لوگوں 
ن اہایار سول الل اپ ! سرع اور سترا کیاے ؟ 
توس ار ددعام ا نے ا کی وضاح تکرتے ہموئے بیالنافرمایا: ریہ ومن بند ہآرام 
کر ےگا دناکی خکاوٹوں سے اڈ کی رمت کے سامہ می سکیو یک و حم خداوندگی کے تحت 
عبادات میں زیادہ متقول رجتا مان ہک ہآرا مک رتا ھا تو ہہ مسترںع سے اور متاح بی ےک 
دو ہے لوک( خی متلتقین )اور -- والے درخت اور چپاۓ اس سے آرام پانے وا لے 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 


ان سن میں حضور حافطا مات لف کا ایک قو لبھی سے ”زین کے او پ رکا اور ز مین 
وت 


(۳)حضرت الی شر خمزائی لے ہرد ےک رسول اللد با نے فربا یہ 

جنلدادہ مومن نہیں ا کلم ہکو جن ھرحبہ فرمایا وپ سے سوا لکی دش کون سے ؟سرکار 
نے یباوج جس کے پڑوسی اس کے شر ےمفوظ نہ ہوں۔(صحیح البخاری؛ 

ج:٢ء‏ ص:۸۸۹ءکتاب الأدب:جلس البرکات) 

سیف حرف ا ےی زی یں ای ےج نے 
سیفسش ار 

)٣(‏ حضرت اوہہ 0807 مرردی ہے انھیں ن ےکہاکہ رسول اللہ بین نے 
فرایا: رغم أنفہ(ان کی اک خاک میں نے اس جت کون مرج ہآپ نے بیان فربایتولگوں 
ے ددیاف تکیادەکون یس سے یارسول اللہ ڈیا وپ نے فرما پک ہٹس نے والدین شش 
0ھ یھو" توو پت 
جت میں داش وین ہوگا۔(الصحیح مسلمءج:۲ءص٣٣۳۱ءکتاب‏ البر 
والصلةءباب فضل صلة أصدقاء الب والم ون و ماءجلس البرکات) 

تو دک ےک مذکورہ پالا حدیوں می کس قد ابتمال تھاء جب صا کرا مک یھن میں دقت 
ورشوارکی بین آکیءصحا کرام کا شوق بیرار ہواکہ سرکاد سے وھ لیا جائۓ وجبت :اود 
مستریح؛ مستراح؛واللہ لایومن اائرغم آزفہ م! سکیا ممممہ پپشیرہ سے تو سرکار 
نے ہ رای کی فردآف رد وضاحت ف ماگ یجس سے متلہ کسی مکشف ہ وکیا۔ ب ہبھی حلنغ کا 
ایک عدواور مین اندازے۔ 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
لے ابہام پل نوع 
نیکم الپ کے طریقہ نے ٹس سے ب بھی ےک جب ھا گرا مکوسی کیل یم 
دتنے تواوا ا ںکو ان اہم رک کہ صحا کرا مکا ذ ہن اس کے انکشا کی جانب ری طرح 
موجہ ہوجاتاء بعد ازاں سرکار لال ابہا مکی وٹ فرماتے تو گرا مکی ری تو ٹیکرم 
کی جانب مرکوز ہوجائی اس رح ری بات ان کے ولوں میس ات حاقی اور ا نکی صلی 
گی بچھ جانی۔ اہ تن ش ل بھی حدیف اک ماف بائیں: 
(ا)حضرت الس من مالک لے سے مروکی سے وہ کت بی ںک ہم رسول الدد ان 
کے ساتھ جیھے ہو ہے یو بی لم مم انا نے فرما اک ہی ۰ء 
اش رہونے دالانۓ جال نت سے ہے لی قی صا رکا ایک یا٠‏ ظا ہاچ کی رای 
سے وض وکا بای ید ہاتھاء اپنے داتئے بات یس اپناجو تا لیے ہو اکچ ردوسرے ون نکمم 
نے ایمابی فربایاہ توچ رود ینف سکمزشتہ حال می ںگزراایجنی عکس ہی طرح )چک رتبسرے 
دان یرم ٹاڈ نے ایسادی فربایا نیم رددی شس ای حالت می سکزرا۔ 
رجب ہیک رہم لاڈ کھٹرے ہہوے نی جانے کے تو نضرت عببد ایر بن عھرنے 
ا سخ اجس کے بارے میں سرکار دوعالم ین ے ایا ماک یہ ائل جنت میں سے اس 
کا پچیاکیااس مقصدد س ےکہ اس کے مم لکوجانے تو عبدرارڈد بن عھرنے برض سےکہا مبرا 
میرے واللد سے مھکڑا ہوکیاے ء میس ن ےش مکھاپاکہ تین رو تک الن کے پاش نہیں جائوں 
گا ہاگ رآ پک احجازت ہہ وقویش لپ کے پاس پناہ اص لکرلوں یہاں ک کک نین و نگمزر جائۓ 
نکر رہب ظد 
رت اس فرماتے ہی کہ جحضرت ابن عمرائ لٹ سے بامتہکرتے ہوئے الن ول 
رتو ںکوانس کے پام سگمزاراہتواس در میان برض ارات ٹی بج بھی قا مکرتے وخ نہیں 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
7 و 9ی ا و 0 
پرکروٹس بدلتاتوادڈ کا ذک رک مااو رگم رکپتابیہاں ک کفکہ دہشم رکی نماز کے لے بیدا ہوجاتا۔ 

حقرت ابکن عم رفرماتے ہیں :الس در میان یل اس سے پیش بچھلاک یکی بات بی فتا پر 

ض تل کک نیس ےا ےک ان خرا نت رت ہے تین کیا لفن کے 
ان کےع لکوجق رت ہو کے ال کے بے امیرریےاوزمیرے وال در کے ور مین و 
کوئیپھکھڑاے اور نہ ہیکوگی جدائی بیس توصرف تی ال دیکن آیاتھاکرس ناپ ہت و علق سے ۔کیوں 
کہ رسول اللہ شا نے تورے بارے میں مجن مرجبہ فا پک تم بھی ایک ایاخس اہر 

ہوے والاے چوجلتی ےتویقنوں مرج تم بی ظاہرہوئے۔ 

اس لییے یس نے ترے پا پناہحاص٥‏ لکیاہاکہ تی کل دمھو ںک کون ال ہے جس 

نے چھے جلقی بنادیا اس لیے یس نے تب را چاکیاءٹس نے مج ےکوی یبال بہت زیاددکرتے 
ہو ہیں دکھا جو تھے اس مقام کک باہچادرے شس کے بارے میس سار دوعام بین نے 
فرایاتوام لنٹ نے (لشنی اد ہار ظاہرہونے وانے نے پاباہ الما نہیں ے جوت وید رسے ہوبلہ 
معاممہاا کے رحس سے جب میں یل پڑاتواٹھوں نے بھے بلایااو ہکہا: اے میرے ھی ! 
ونے جو چھےکسی مل م سکثرت بر تبون نہیں دکپائویس ان معا مو ںکی وج س ےکر متہیں 
بللہ معال ہتوبہ ےک یش ای اض فان سے لفلق ری کرد ت مین رکننااوز شش ائن 
لت پپر دک رتا ہوں جو الل نے اسے عطاکیاے۔او رتوکھی اس سے ینک یکو کر یجن 
صدرے) آوعحخرت عبدالڈد ےکہا:”ھذہ التی بلغت بك وہی التی لا نطیق “.می 
وہ پچیزے جس ن ےت مکواس مرج تک بانچ باادر ہی دہ ہے جم سک طاقت بیس نہیں ۔(مسند امام 

أُحمد بن حنبلء ج:٢۲ءص ۱۲٢١۱۲٥:‏ ءرقم ا حدیث:۹۷٦۱۲ءمؤسسة‏ الرسالةء بیروت) 
تودیکیے اس معاملہ می سکس قدرابہام تھا حور با نے اسے کول پی پچوڑ دیاہ پھر 
بل حتقیقترِلَ مرئ۔ 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
چڑو ںکوسائۓے رک وک را نکی مت بیان فرما ‏ ےکاانراز 


سرد رکاسجات ام ا مین ٹا کا اجتائی تعلیم و یت میں سال اڑ+و تخس سۓ 
سی پرسنا ٹا پھاحجاتا بہت بی جائح او رض رخطبہ ار شاو فرماتے ءآ کا خطبہ نہاہت زور دار اور 
مت ہواک رج تھا صرف جزبا یکشون فریاتے بل گے ب گا ہےآواز یں تی او خر بھی ہوتی 
ھی می خمونہ بی فراتے ہک کے دکھاتے ؛انھیوں کے اشمارے سے بنا ےکی عائی بای چجز 
سے تشیہ و ےکر بات ذ ہن نشی کرات مہکہ غی راسسلائی اعمال وافعال جو شیج تکی روح اور 
وق سارہ کفرت ۓغ تق مرے غتال ور ظا یراس مو ور 
کے متملمی نکی سرشت میں دی نکی عحبت اور شرگی اعمال سے لگا پید اک میں ۔آپ نے ایی تمام 
کونششوں پر پاہندیی لگ دکی جس سے لوگوں کے عقیرے یااعمال ٹیل فسادپیدراہہون کا مختطرہ تھا 

لآ آپ ے اسلام ٹس شراب وش یکو مطاق تام ٹر نے ہو فرمایا:دہ لوگ 
شراب پیک مسق میس خبایت ہر ےکا مکمرتے ہیں اذا اکر انس کے دی نے شراب کی تو 
اسے مخت مزرادیی جات گی ل(دٹی دعوت,ءضص:۹٠۱)‏ 

بسا اوئمات ان چچیزو ںکونجن سے روکنا مقصودہہو ما سام رکھتے اشن ےکی مت 
مات ںک را مقصور ہوا نام یس اس کواپنے پاتھوں میں ل ےکر اٹھاتے ماک خمام مخاضتین اخور 
ملا نظ ہک لی ںکہ فلاں چیڑرے روکا جار ہے ۔کویا تضور با عر مت اب تکمرنے کے 
لے قول اور مشاہدہ دونو ںکو جح فرماتے تے ‏ ماک لوگوں کے ذہنوں بیس وہ ممتوصہ ہیس انی 
فان کی ت2 اوت 2ا دارے۔ے 

ں تق سے احادٹ اک ملاجظہ ف راس : 

(۱ )ابو دا ود ءزساگی اور ائکن ماج کی ردایت ٹیس سے ححخرت مکی بین ال طااب ڈلنے سے 
مدکی ہے ءاھوں ن انہر سول الد بش نے اپنے پائیس بات میس ریشم اور دائیں ات ٹیل 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 

سونالمیاءبچھراپنۓ دونوں پانتھو ںکوبلن دکیااور فرمایا سوا رہ دو نول چیزیسش می رکی اممت کے مردوں 
کے یی تی یں و و کن کی لے خلا ؤں۔ طسق ین ماضہاب لس 
۳ئ 

)۲( رت عباد بن صدامت ڑا سے مردی سے انھوں نے خرم ال یریم شی 
ال غأیمت کے اوشنوں ٹیل ے ایک اوئٹف لان اود فرمات ےکم میہرے لیے اس یی انا بی حصہ 
سے جنزاک رق بیس سے ہہ رای کا حصہ ہے ۔ اس سے معلوم ہواکمہ اپنے جصے سے زیادہ لیناگوپالہ 
خیاض تک ناے۔ ہیں پیک رہم ےا نے فرما یاخضیاعت سے پچ اکیو ںکہ خیاعت خائن کے ہے 
قبیامت کے دن ذات ور سوال یکا بب ے۔ ددھاگاءسوکی اور ج زاس کے علا وہ ہوا ےکی 
الپ سکردوء( نی درز یکوچ ہی ےک ہکوکی یز اپنے پا دوسسر ےکی نر تھے )اور چھادکروالڈدکی 
راوٹیش قرب وع ری اور سفرو تحخرمیس ءکیو ںکہ چہادججت کے دروازوں یں ے ایگ درواڑہ 
ہے اللہ تپارک و تال ال کے ذد یی ےگ اود پریشانی سے محجات دتاے۔ حدودقامکر و قرب د 
2 7ء و۰0 

لپ ا موجھ دو مین ححفرا کو چا ہج ےک ود رکا را کے اس دجو کی اسلو بکو اپنا 
ہیں بل ہآ ج کے دعاۃومبلخین کے لیے بھی ضردرکی ےکہ دو اق متفیقی تحریجات مک وکا میا 
بب بنا نے کے لے کور حیقی انمالیب اود وی طررلٹشون تن ناد نون الین کے - 

کس بھی ”و عو تی تحریک م یکا میا یکاتصو رنہی سکیا اتا 
مسائل در یافت سے خی نان کا الوب 

معل کا مات ٹ یکریم شڈ کی بعنت طقہ ہکا بذیادبی متصد دعوت وف ھھا۔ الد رٹ 
التڑت نے قرآن مق رس میس اپینےمحرو بکومتوج ہکرت ہوم فرمایا: سیا لھا الژَمُول مَلَھمَا 
اذ لیک ین زع“( سورہالمائرہہ پارہ :۹ہ روغ :۳ اءآیت: )٦۷۶‏ 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام 1351 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲۹۱۷۳ 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
اے رعول! پچیادوجھ ہپ ات راج ںتھوارے ر بک رت وق طف 
اےے؟ نر اقل 7 ۳20 لوگوں کک پاچا 2 خوا: ایل ى یآہت ہو“ 
(مخاری شریف؛کتاب یدءالوحی) 
یں سارکی وججات کے بنا ایام ںیل جب جزیکعرب کے اطراف والناف ے 
لے ے2 فات میں اقامت پز مہوت تو تفور با ہ رقبیل کی فرددکاہ 
پرتریف نے جات اور انیو اسلا مکی دعوت دن - 
الخرضش رحمت عالم لاڈ کوفرائض نہو تکی ادا یکا ساس ہروقت بے چیین رککتاء 
دوروٹزدیک ہا ںکئی ںبھی اب عر بکی مو ہکواطاا رع لت یتو مور وہا ںتحشریف لے جاتے اور 
مگمرادانسانی تکوراوراست رگا مزا نکرنے کے شحوق ٹیس ابقی مسائی او رکششو لکی انف ریادتے- 
ااوطاری ٹلتاڑے موی 0ئ نے اوت رسول جاپن ککوزی 
لا نکی منڑی یس دکچھاء قیائل کے سان عاک رآپ فررارہے سے َاأیُھا النّاش فُولُوا 
لالہ ال اللہ مخ و ا میم وکوئی عبادت کے لائتی نہیں مزال تی کے ءال اہو گے نووونوں 
چچہال مل فلا پا گ۔ (مسند ا مد بن حتبل) 
یکریم لاڈ منت اورقات ان اسحا بکواخی لیے ان مسا٘ لکوبتانا مناسب جات 
جن کے بارے میں وو سوا ل نی ںکرتے با فصو ان ام موا ملا تک ینیم دتتے جن سے ہرکوئی 
وا ف نہیں ہو اءیہاں کک سور ان شہا تکاگھی جواب دے دتے جوا بکک وائح 
یں ہو ئۓ٤ء‏ اس شف ےکس وہ ات الکن لیے کون ین 5 راغ نہ ہوجائگیش 
فان ےلت :گی ین تنا نشین کن من وٹ پا الہ فرائیں: 
(ا) ضرت الو رہ ٹک ے مدکی ے ءافھوں ن کہا اکر سول الد جن نے ورمایا 
کت نت رت کے پان حیطان آناے ہتددہ(شحیطان اتا ےکہ فلاں فلال چ کو س 
۶ ,8 7 


مھ +) 


7 ۱213۲۷113.051.۸۷۸۲۹6۴6ء ۱۷۸۷۷۸۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
کیا۔جب شیطائن اےے خحیالات ٹیل متا اکر ےجو چا بجےکہ ر بک پناہ ماے اور سحکوت اختیار 
کرۓ کو ےتشان ان خیالات کے ور بر خی دنا وارت 77ھ چاہتا 
ے۔(بخاری شریفءکتاب بدہالوحی) 
(۴)حضرت الس ٹل سے مردی ےک رسول الد با سورج ڈھلنے کے وقت 
گھرے کہم میں نے تضو راڈ کے ساتھ نما زنہراداکیءفارغ ہونے کے بح من ری رکھٹڑے 
ہوک قرام ت کا ذکر فرمایا اور اس کے ان ام نشانیوں کیاکی کر ف مایا جو قاامت سے م لے واقح 
ہونے والی یں ء ار فربا یا ہکن اس با تکوپن رک تا ےک جھھ ےکی چ کے پارے میں سوال 
آایۓ از سوا لآ ےکی اجاذزت ے؛ چناراائم یھ ےن چو نے پارے ین مین 
کچھ گے اس سے لے بجی میں ت مک وا سکی خجردے دو ں گا جب کک میں اس جل ہکھڑراہوں تو 
حثرت الس ]ماک جس وقت س رکا رکی ڑ پان سے لوگوں نے امس با تکوسنا کدانھوں نے روتا 
شر وخ کریاء اور رسول الل پا ای ز ماع مارک نے بت زیاددفروانے گ کچھ نے 
سوا لکروہ ٹچ سے سوا لکرد ہت وعباللد این عزاپہن ےکھنٹڑے ہوک رع رخ کیالہ میرے وال ھکان 
ہیں ؟ لو تضورنے فرما یا تھوارے والد عذافہژیں۔(بخاری شریف) 
تمو ربا لوگو ںکومزید صوالا تکرنے پر اچھار نے کے تو حضرت مر انا وٹ 
گے او رر کے گ ےک ہم الد کے رب ہہونےءاسلام کے دین ہھونے اود ھب ین کے رسول 
ہونے پپرراشی ہیں پھر سول الند ان نے فرما یل( اولی )یی قرب تک رتم جلاک ہو جائۓ 
اس ذا تکی ٹم اجس کے قب ہقندرت میس کی ان ہے مھ پدلجھی بھی جنت ودوز حنکوئیل 
ان زا ےکم انی نک کید ےی ان شک کے اور 
کپاکہ می لآمن کی ری اود دن خی روش نہیں دکھا۔ 
کوئی دائگی ن مالغ ہنی دعوت وحلنغ می کا موی دکاھ ری کے منازل نی سک رسکتا سے 
جن پک کک ای کے ول میس شی ا کے سا در دی دخ رخوا یکا زی جن اود ا نکی 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
اط ار یوں اورگھراہیوں ےتا واضطراب میس متانہ ہوچاتا ہو ۔آپ قرن لیم اور احادیٹ کا 
مطالعہکریں کے مور ہس وس ہہ کالہ حور بدا ہدات ور رکی کےکام میں انسمانیت کے سب 
ے بڑے اور چے نی رخواود تھے ۔رات رات پھ راس ک ےم یں ڈوبے رتےء خداکی با راو نیاز 
مندراشہ پپنشالی کک ردعائگیں گان تَا تو ,3 گرارشال ورای پرلگادےء ۱ ر9 
شم میں کول گے ج ےک قرا نکی میس اولتعالی نے آپ کے تلق مار شادڈبایا وك اڈ 
تَفْملکمَ اتَارِمۃِإِۂ لو ٹوا بِنًالْعَرینأمنا“ (سرارف:۸۸٢)‏ 

وی ں تم اپتی جن پرحیل جا کے ان کے یی اکر دا بات پداییان شہلائی تم سے 


حمت وموعنطت کے پیٹش نظ ر سو ل نہ وت 


من 5ر اتے(۸ ۶ اررے 

ملغ مم حضور پاےم کے جملہجلیقی اسلوب اور دعوتی طریتہ“ تیارکسی نکی حرت 
لوت کے پیش لظ رہوتے , آٹھیں الوب میں سے ایک ب بھی اک سرائل و سوا لک رما اور 
حور با اس سوال سے پالمقل الک تحلک دوسراجواب دیتےء الد عزودجل نے قرآن یں 
اپ محبو ‏ بکو عخاط بک کے ارشاد فرایا: ”دم لن سیل رَنْك با لکن وَالَعکة 
ات مک وت ۵ء پارہ:۴ا) اپ رب کے راتۓ ٣پ‏ هہس+ بپ؛؟ اور کن 
سحت کے ذر یج اوران سے اس طر یلق پر بح کرو جو سب سے ہہ ہو 

ححفرت مطقی اج یار زا ںی پا ا سآبی کی تی می رت طراز ہیں: ” میہآیت 
کیہ ظاہ رآتوتقرے - یقت میں اصول رشدوہرایت, حکمت دلاکلء مواعظحتہ اور 
ماد لحم میں دعوت اسسلام کے لیے خوش کوا رگغتار, خرن مزاظظردء ط ریت رکامہء ضوابیا ماولہ 
اور تحمول مکابرہ می ایک اخمول او رم٢ھی‏ خزانہ ہے۔ چوں کہ انساان اق ذ ہن یکیذیت کے اعتار 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
سے تا نم کے ہوتے ہیں۔ 
اس لیے ا سآبی تک ری میں تما ملین اسلا کون رح دعوت دنحنغ اکم د یکا سے 
(ا) پچھ نماعص لوگ اٹل شور او رن کے منلاشٹی ہہوتے ہیں ا نک وحکمت ولاک لقیت 
کی روشنی بیس بی دعوت دینامفیرے۔ 
)٣(‏ عوام میس اےے لوگو ںکی اکشریت ہوکی سے ےک الع کو خودجی بلا ناڈ تاس اس لیے ان 
دوٹوںگروہوں کے لیے فربایا ادع “ ا نکودعوت دہیچے اوران کے پائس جاجئے_ 
وا الا 0 ا ا ا اع کے مر ہوتے ہیں 
اور ہرحعال یل خودکوبلند یکن وانے اور ہداب ء پقرب زبا یہ مجھوٹ پچ اور دحل وف٢ریب‏ سے 
اق بر ترک جات وانے ہوتے ہیں۔ اع کے سراتنے اگر ذدابھی صلی زرئی وکھائی جات یا ان 
کے پا وخاط رکا پھفیاطا رکھا جاتۓ وا نع کا خرور و لبرہ سرن ونود نماکی اور بڑھ جال ےء 
ای لوگو ںکوبلا نہیں پڑت بل ابقی عمافقت سے خودہی صن کے متقائل مناظر: ومیاولہ کے لے 
آحجاتے ہیںءان کے لیے فرا پاکیا ”و جدادلیہ ینیع مکی تی ء طبیص تکفتا کی خی د لا لکی 
7ظ گے س کھر نرتف نے نکر رام 
پرائل ایا نکوىہ اسلوب اور ط ریہ سکھایاے_ 
مرکوردآیات سے ہہ تفقیقت دانع ہوقی ےک لغ سے جا یل لغ کے پاس علم وحمتء 
عم داع حہنہ ٥لم‏ دائل اور وی معلومات اپرکی رع ہو اض روریی سے ور نہ نادان ء بے مم اور 
خی رت یت پافننہ مم قووین اسلام کے لیے معتراو نقصان دو ےء اور الیعوں سے دعوت ون 
کے متقاصد کے حصمو لکی توق عبے سے البت شراورفتقہ وفمادکااندبیشہ ضرور لگار سے گا۔ (دبی 
دوںءکش: )۳٣٢۲۰۳۵‏ 
اور عدیث اک ھی خابت ےکہ صرکار کت ومصلوت کے پیش انگ رسوال 


ا7ے اور جے۔ 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام.۲3۹51 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۱۹۷۳ 


دعوت وتبلیغ کا ثبوی اسلوب 
()خرت الس پٹ سے مردبی ےک ای فنص نے رسول اللہ بایان سے کالہ 
قام تک بآ ےگ لوپ لٹا نے جواب نہ در ےک مہ فرما پا ہآخرت کے لے تم نےکیا 
یکین وا کن کک ا نے افاف رون از مر لیے لی ںکوے۔ 
کان اتتاضرورے کن میں نے الد اور اس کے ر ممول ج اما سے محب تکی ہے تو رککار نے فرایا 
کہ قیامت کے د نتواس کے ساتھ ہوگاجھس سے تو محب تک رتا ہے۔(بجخاری شریف) 

رسول القد تا 9,0" ھ2 ئئ ۶ ص یئ اپ تم 
دےکردوسری بات بتائیج٘ کی ائ نف سکوزیادد ضرورت ہے اود اس کے لے زیا دنع نشی 
ہے اوردوقیاممت کے ون س رخروہہونے کے لیے نیو ںکاذ خر جک رناے۔ 

ای یی ےتوپ نے فرما یا قیاممت کے لی ےک یاتیار یکر دی سے ؟ تو اٹ ےکہا: الد اد 
اس کے رسول پان سے حب تکر تا ہوں ءآپ نے مزلم بھی فرمایاکیہ انسا ن کا صشراسی کے 
سماتھ ہوگاجو ا سکیا راشیٰے اورجٹس سے ود عحب تک رتا ےہ اورال میس انس عکو ئل بات سے 
آگاوکرنا ےکہ دٹیائیش ال ںکاساھی خیب رصا رح ہوا وآ خرت می ںکھی ودای کے سا تجھ ہگا۔ 
دو سرافاکہ یہ ملاکہ فی رض روریی سوال سے پر ہیک ناجایئے۔ 

)٣(‏ حرت ابو موک اشعری ول سے مردکی ےک ایک یبا ینس رسول پان 
کے پا آیااد رع رخ سکیا :یا سول اللہ ایک نف مال غیت کے لیے . ایک نس نام وشمودکی 
خاطراو ای کس شواعت د بہادی دکھانے کے لیے چہادک رتا ہے توان نیچوں می سکو نٹ 
اللدکی راٹس چہادکرے الا ے؟؟تورسول چا انا نے فرمایا جو اعلا ےکلمتۃ ار کے لیے جباد 
کر جاسے ووالیٹ کی راو یل سے “۔(بخاری شریف) 

رسول الد پان کا یہ جو اب دیپاکہ جو الد ک ےکم ہکو بلندکر نے کے لیے چما دک رتا 
ہے دو الیل کی راہ شش سے معغایت بلاغخت اور ابچاز کے لیے نے ماس حکمت کے یش نظ رتھا 
کت ا کرو کےا 06ت ھا لارتارے قطانب: 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
عبی بھی جوادید کے لیے ہودہچمہادے اس لیے تضور نے ایےے جائم افظاکی طرف عرول فرمایا 
جرالچاں نتم ہونے اورافہا مکی زیادلی کاڈائرەرے۔ 
لوت اختما رک ر کے مکی نوع 

عحص رح اضرمیس دعوت ون کے بہت سارے ط رق وجود بیس آ بے ہیں گر جھ 
اسلوب بیال مم جیا نے جتائے اور سکھا ۓ ہیں٠‏ اع سے اتحراف دعحوت ونلنکی اش انیٹ زی 
کوٹ خمرنے کے متراورف ے۔ 

سو افاررے ہن کی وت حون دشا سے خوکی الوب میں سے ایک کت 
اس طط زنت ین کواصولبین اور مر نتنقر یر ےتجیرکرتے ڈیں ری ےکہ جب صحا کرام سے 
کوئی قول انل صادد ہو اور اس پرآپ سکوت فریاتے یا وی کا انہارکرتے تو پ کا الیاکرنا 
ا با تک رف اشارہ ہو جاک ہآپ ان کے اس قول ول سے راشی ہیں اکر خلط ہو تا توآپ 
اصلا فراتے_ ببت سے ملھی موم ںآپ چان سے بر سے 

یک ریم اٹ سکوت اختیار فرکررسی مل ہک یتو ف رات تھے عدبیشکی روشنی یں 
ملاحظہکریں: 

(ا)حضرت ال جیضہ وہب بن عبدر الین تم سے مدکی سے افھوں ن ےکہاکہ نی 
مریم پا نے حطرت سلمان اور نحخرت الودردا کے در میائنع رش تہ اخوت قات مکی و 
حخرت مسلممالنع نے درداکی والددے مطلائقا تک اور ا نکوگندے را ےکپڑے میں دی ھا توانی 
سے لچ ھا ہآ پکوکیا ہوک ہآ پکندہکپڈا ئن ھی ہیں میں ن اہ ترے پھائّ اإودردا 
کودناک یکوئی عاجت نہیں _ 

رت الودردا آۓ ان کے ل ےکھانا بنابا ہو نظخرت سلممان سےکہ اک میں روڑہ 
سے ہہوں تمکھا ہو خرت سلمالن ن ےکہاکہ یس اس وقت نمی ںکھائو لگا جب ک کآپ نہیں 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

کھا کے تو انھوں نے بج یکھایاء پچ ر جب رات ہوگی تو اب ودرداعحبادت کے لس ےکھٹرے ہہونے 
گے مو خنظرت مان کاو جا دوس وگ پچ رددبار ہکنٹرۓے پہونے گے ٹون نکیا 
جا ء رات کے آخریی حصہ یں نضرت سمالن ن ےکہاا بکھٹرے ہوا نفوراوک یکا بیان ‏ ےک 
دوٹویں ےکی نحثرت الودردااور سلمانع نے سا تجھ ٹیل نماز پڈڑھی کو ضفقررت سامرالنع نے ال 
س ےکہاکہ بے شک تھ پھتیرے رب کات ہے ہتھ پر تیر ےنس کابھی عفن ہے اور تچھ پر 
تیرے اٹل وعیا لی کاچھی من ے مت ون وا ےکو ا کان دے نی نہ صصرف عباد تکر بل 
امہ یکر الع لکی ریہ یکراودلی عبادت اکر 

تو حضرت ابودردا یمم ا کے با ںآ ئےءاپنے اور مان کے در میان جنگ ہوئ شی 
ا کوٹ کیم اٹ کے سان ذک رک الو یک رہم شا نے فرما ینہ سلماان نے جہا۔ ریا الصاشیِن ) 

(۴)حضرت عمروبین عائش سے مردئی ےءافھوں ن ےکہا ”نلاس لکی جنگ میس ایک 
نکی رات میں مجن ھکواضناام ہوگ یا تو کے اس بات کا خوف ہواکہاگرمیں نس لکرو ں مات بلاک 
ہوجائول گاءتوٹیں نے می مکیا بچھر اہین ساخھیوں کے ساف تس کی نما اداکی :نو لوگوں نے اس 
میا کوٹ یکریم ڈیا سے وک رکیا تضور ہلڈاپین نے فربایا: ” اے عمرد اک کی نمازتم نے 
اپنے ساتیوں کے ساتھ اس عال میں چنڑ یک خم پیا تھے میس ہے کم رہم ایی کو اس ہز 
کے بارے میں باباٹس نے ججھینس لکرنے سے رکااور بطور ول اٹتھوں نے ا ںآئی تکوبیشل 
کیاکہ الد تعالی قرآن مقرس میس ار شادفرماتاہے: ”ول تَفْعدواأ سکم الہ کان بک تی“ 
اور اپتی جا شنل ن کرو بے کلک الڈرتم پر مہریان سے۔(سورونساء پارہ:۵ء آیت:۲۹) 

جب افھھوں نے ا ساب تکو بی یکا مو حور بایان ۰ فرمایا اور سکوت اختیار 
کیا۔ توس رکا رکاخا مو شر ہنا ال بات پردیل ےک جب سمل پاوضوکی حجاجت ہواورسی عضو 
کےہمل ہونے بام رم کے بڑ ‏ کا حرش ہویم پداکنفاکرنا درست سے ء اس می ںکوگی مضائتہ 
نہیں ۔توظاہ رہوگ راہ س رکار ا سکوت اخقیار فک ربھی مت ےکی وضاحت فرماتے تھے 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
مض نپ شع اورٹسی مزا کے ذرہیے حین 
ء۶ اب فخاط بکوتملیم دی بھی شفق تآمیزپددانہ بد مالوکرت بھی 
معأرانہ شفق تآوجھی دوستانہانداز ہو تا ءآپ انا لوگوں سے سرت ہویے مز مال 
سے لے . نی وعلاطفت سے پیش آتے ؛ھ یکس کی تق انیل نہ فرماتے :ا نکی دلدارگی اور 
خوش بی کا مظاہردفریات اور مزب خظرافت سے کام لیے ءا نکی دل چپ یءاستعداداور ذوتی 
کی رعایت فرمات ء دوراا شر یا دعظا عدم ول چپ یکا احماس ہوم توفو رم وضو برلی دی یا 
سلسل ہق مکر ہت اٹھی پاتوں پ مان فریا کندعوں پر بات رک ھکر ہبایت شغققت اور ول 
سوزیی ےتمقین فرما تی مھ ی_بھی سے سے لی لیت ۔ 
کیو ںکمہ عمدہ ماق انسالی رو ںکوفرحت جخاے اور طبیع تکی ممکا نک وت مکر دچاےء 
قل بکوجازگی بنا ےکیو ںکہ انسانی زندکی ری کم اور درد مپانوصہ ہے۔ عدہ شی اح ہی 
ان چیزو ںک وخ مک رتا ہے می وجہ ےک انسا نکاذ ا نکی با تکو خوش روئی اور خندہ بای 
کے ساتھ جقنا تقو لک۷راے تزش روئی اور ضھ کی حالت میس انناقجول نی کر پاتا۔ 
کیاہی مہترے صلی او یی مراقی وف جھاتٌے راہکی جانبر ہنما ‏ سے کو ںکہ 
بھیشہ ذ ہ نکوکام یں لگاۓ رکننے سے ذ ہن بل ہو جانا سے۔ اس لے وق فو قافن ن شع سے 
ذر یع موک رنآ فا ےکی سن تکریس ہے۔ جی امہ ایک ھجب ایک ضتیغرن ےآپ سے لچلہ 
یس جنت میں جاوں گی یانہیں ہتوسرکار پان فربایا: موی بڑھماجنت میس نہیں جا ےگ “ 
تووہ بڑھیا رون گیب رس کار نے ار شادف ریا پاکہ جنت میں نہتوعیف ہوگا نہ ضعیفہبللہ سمارے 
لوگ جوان ہوں کے بی ایک عیدہ مزا اور ہ٤‏ یذ نشیا کے علادہ اس ٹل ا بڑھیا 
کے ےل رفاحت ا ۲ارد کک نت من شعن کان 
سا اوقات ارم جیا نے اصوا بکونففن بح کے طور پرتعلیم دیے ے اور جھ 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
نے نے ںای یت ےم کرک خر 

ا 7یبد ا اھت رآن: 

(ا)ضرت الس بن مایک نے سے مروبی ےء اخھوں ن ےکہاکنہ رسول الد بای 
ہارے پا ںتشریف لاتے تھے ء اود می راایک چو ٹا پھائی تا سک یکنیت اب وی شی اس کے پاس 
ایک بی لی ٹس سے و ہکھلتاتا :ود بل مرک ایک روز یمم یی اس کے پا ںتشریف 
لات ۓےتوا کو دہ پا یاتولوگوں سے انس کے بارے یس پو یکاہ ال سک یکیاحالت سے ؟ ول وگوں 
نے عرخ سکیا ا کی بابل مرک یتوس رکارنےارشادفربایا: اے الو ر!ما فعل النغیر؟ (ابن 
ماجہ؛ص:٢٦۲ءباب‏ المزاح) 

)۲( حصفرت انس ول سے مردی ہے انھوں نےکہاکہ ایک شس نے رسول اللھ 
شی من سے سور یی در اس تکی نورسول الد پٹ نے اس سے فرمایا: میں یں اوشنی 
کے چے ربٹھا کول کا وا کٹ ن ایر سول ال اش اوشنی کے بچےکوکاکرو ں کا وی 
کریم لاڈ نے ارشاد فربایاکہ اون فکوتو او شنی ہی گػقی ے ٹا؟ (مشکاۃ الصابیح؛ 
ج:۲ءص:٤٤٦ء‏ باب المزاح الفصل الغانی؛ مجلس البرکات) 

تووہیکے ےکی ر سول ان ان نے خو شعبجی کے ذریی کی ام بات کھادئ یک اونف 
۰- بڑا ہوکرپوچڈعوتا ےگھروہاو ٹن یکا بی ہوڑاے۔ 


کتزررار شا کاالتزام 


دائی مم شلاپ کا ایک طل رب ہج ےبھی خھاکہ جب صا کرا مکونلیعم دی تدایق 
ٹیس ہار پار دہراتے۔ مفقصوداس سے مخاط بکولوری طرح متوج ہکرنا اود ال سک اہمی تک بتانا 
ہو کیہ خاط بکاذ ہن پاتو ںکو انی ری حقبو لکمر نے اور ا سکو ین بہوجائےۓ-_ 

قران عگیعم می ںبھی اعوادہ وجرا رکا بڑا القزا مک مایا ے۔ یک بی مہو مکوبار بادقرآن 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

لف انداز سے یی لک رما سے ماکہ وی ذ ہن نیس ہوجاۓ۔ شاب ہ یکوگی لصف ہوشس پر 
اکسیانے ابیقی بضیادکی دجحوت انس کے سی تن کا اعادد نہکیا ہوک ن گرار می ںکبھی انراز یما ختیارکیا 
ہ ےکوی بات ہریار الف دق ہے- 

آ بی مبلقین نففرات کوامارے آوز تگرارکی طر ف پر ککوج دٹٴچا ےن از 
ایما اتارک ناجا ہی ےکہ بے زارکی او راکتامہٹ نہ پیداہہو نے پائۓے- 

اعادد اور گرا رکا اصول یر ےکم ج ینہ چو یکو پڑھایاجاۓ ا کا اعادہ اورض کا کے 
وب پااکرادیاجائے۔ بہت زیادہ معلومات کہم پان کے کر می ںاکشراساتذہ اعاد کی طرف 
سے غفلت بر تے ہیں جن سکاانجیس بہرحال خمیاز وینکنتنا ڑا سے ۔کیو ںکہ چو ںکوپچچھاا سجن بھی 
اد نہیں ر بنا اور انل ای ا نک یھ ٹیش نی ںآا۔ اس لے اعادے اورمش کی طرف غی رممولی 
توجہ دی چا بیے۔ وق کے ہہ رجز کے بحعدراس جنزکااور شی کے آخر ٹیس پابندکی سے ہمد وقت اور 
بیغ می سکم ازکم ایک ون اعادہ اورشقی کے لیے مخصوی کر دیاجاۓ امہ نے کب رکا ام لی 
ذ من نی ہوجاۓے۔ اق راحعادے کے آکے نہ بڑھایاجاۓ سو ےکی بات ےک رخ مم پر 
چو ںکوقررت حاصل نہ ہو کے ودآخ ران ک ےم س کا مکا ہوگا۔ 

اعادداد رگرار کے ساتھ بیانکرنے کے تلق حدری گی واردے جو مندررجہ ڈیل ے : 

(۱) حضرت انس لا سے مردی ےک عام ور پر جب ٹریم پا کوئی بات 
نات ےآوای کلم ہکان مرتبہ اعادہفرماتے بیہاں ک کک مخاطب اٹھی طر جج لیتا۔( خاری 
شریفءج:۱ءص: ۲۳۰( 

(٣)صضرت‏ عبد الد بن عم رجا سے رودکی سے اخھوں ن ےکہاکنہ رسول الللد پیا 
ایک فیس چچی رہ گئ اس فیس چم لو بھی تھے تورسول الدب نے بی مکوپالیا یس 
وقت می سکہ وہ محصرکی نما زکاوقت تا اور بھم لوگ وضو ے دد مان اپنے چانوں پر حر رے 
تج ےو تضور اي نے بلن دآواز سے ندادیی ”و یل لپلاعقاب من انار “٢ن‏ ھرمہ فربایا 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
”ابڑلوں کے لیے ہہ مکاعداب ہے ۔(بخاری شریف؛ج : ۰۱ص:۲۸ءباب غسل الرجلین) 
رت عبدال ٠ن‏ :نم سے مردکی ہے۔دوروای کرت ہیں مان ہل ڈل سے 
کر سول الد انان خزدة جو کک جااب کے ؛ج بک ہوک یتولوگوں ن ےکی نما ادای پھر 
لوک پل پڑے جیے سورج لو ہوالوگوں پر خنودکی طارکی ہوگئی فی دن کے اول حصہ میں ) 
ارراو پیک گئ لیکن ححضرت معازتضور کے سے حلتے رہے جب مور نے ابق کاو ےکا 
پردہا ٹھایالوسیایوں یل سے ٌ و ین پایاسوائۓ ححخرت مجازنے اور سول ال مان نے نا 
دی او رکہا:اے معاذ!افھوں نے عر سکیا ء لبیک بای اید ! رکار نے فرمایا:اپنے علاد کو کچھو کر 
قرب ہوجا تودہاتناق ریب ہیوک کہ ال نکی سواری تضمورکی سوارکی کے الئل برای ہوگئی۔ 
تورسول اللہ بلأ ا نے فرما ینہ میس نے لوگو ںکو ان سا جح ممان می ںک یتو نضرت 
۶ - 2-1 خنودگ یکی وجہ سے اپتقی سوارگی سے جدا ہو وگ ےآپ نے توق مبھی 
فرما یچ رج ےتوس رکار نے فرمایا: ٹیس بھی سور باہہوں۔ 
جب رت معاذ نے رسول اللہ بل کی جان بتوجہ ھ کو زکی اور ا نکی خلو کو 
اپقی جاحب شس و کی تو افھوں ن ےکہاہ یار سول الد اش احجازت د کہ شی ل آپ سے ایک 
لیے جھے کے بارے میں اکیھوں جو بے مریش بنادتیاےء ھے بہار بنادیتا سے اور کے :+- 
بنادتا ےآ وتضور نے فرمایتم پک سے جو چا ہو تو 
حضرت معاذن ےکہا:اے الد کے می ایج ےکوکی ایال بتناۓ جو جنت میں 
دائ لکردے اس کے علادہ یل آپ سے حم نہیں پکیھوں گا ہتوسرکیار نے تن مرتبہ شاباش 
فرانے کے بعدجن مرج فرما اک بے شک تونے بہت یم بات لی ہے ؛اس کے بحد ین 
ھرتبہ فرمااکہ اید شس کے ساتھ بھلاٹ یکا ارادد فرماتا سے اس کے لیے اسان فریاننا سے صرکار 
دوعالم اك نے ا نکلسو ںکوبار بار ال لیے فرمایا نہ سائے وا ل ےکوشین ہوا ئۓ_ 
یکریم جلا ڈیڈ نے فرمایاکہ الد اور آخرت پید الیھانع لاہ نما اداکروء اڈ دکی عبات 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 

آزو رس 6 ریک ن تھب را بیہا لک کک ہت ای حاات میں مجاؤ۔ تو حضرت معازنے 
کہاء ا ںکامیہرے لیے اعاددفربائی ںوس رکار ددعالم اڈ نے نین مرتبہاعاددفریایا۔ 

پھر یکریم بل ڈیڈ نے فرمایا:اک تم چا ہ وی۲ س تو ارے لیے حدبیٹ بیا نک۷ردول اے 
معاذاجواس معا ےکی اساس ہوا معا ےکی بنیادہواوراس میا ےکی تقیقت ہو ہت وحضرت 
عازن ےکہاکیوں کڑیں ؟میرے ماں با پآپ پرقریان یار سول اللد شلاش ا توسرکار ا نے 
ا سک تشرن فبالی۔”ان راس ھذا الامر ے ان اشھد ان لااله الااللہ وحدہ 
لاشریك لە وان حمداعبدہ ورسولە ”۔ 

(٣وان‏ قوام ھذاالامر اقام الصلاة وایتاءالز کاۃ. 

(وان زروۃ السنام سے ا حھاد فی سبیل الله. 

مم لوگو ںک وحم دواکرچہ جن کک رٹی پڑے بیہال ک ککہ نماز اداک یی زکاق دی او رگواتی 
د ےلیو ںکیہ ال ایک سے ا سککاکوئی شریک نہیں اور مان لن گے ینز ٤‏ زاین کے 
رسول ہیں جب دوایی اکن گی ں ٹوو اکہانھول نے اپ ےآ پکواپے خون اور این ما لیک وط 
کمرلیاائس کے تن کے ساتجح اور ا کا حماب وکتتاب الد عمزوچل کے ذم ہکم بر سے۔ 


سا 7 سے 7 سوال ۴1 
یکریم لاٹ بھی سسائل س ےکر سوا لکرتے کہ ا کا سوال اس کے ع مکیااھاطہ 
کرنے اور اس کے حم میں اضافہ ہو جا اود الس جواب 7 0 2 
خنایت فرمائیں ۔الیاکہوں ؟ وج ظاہر یہ ےکہ خاطب سے کر سوال پو جن توج کو رکوز رک 
اور مور وگک رکومتوج ہک رن انم دتاے۔ 
قرآ نکریم می تہ نہ ا ستصلق سے ہداب تکیاکی ہے۔ یس ”اع تفع و 
بھا“کیاتم نے نہیں دک اک ہتحھوارے رب نے عاد کے سات ھکی کیا (سورہ فجر) ”الا 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 

َتكرْتَ لی الیل کيْفَ خلقّث کر السما كِفَ ژفكث“ (سورہ غاشیة) ل9وگیا اون فک و نہیں 
دکٹتکیسا نا گیا ءا رآسما نکوکیسا او ماک یاگیا؟ ”ٴمَاتِنْك يك یا می “ اوراے موی !سے 

تیرے داپے پاتھ می لکیاے؟ (سورہ ظہ)” ال َعَصَای اوت ْعَلَیقَا ءَأمُّضْبِمَاعَل عَتِی 

ون ھا ما ین آ ری“ عر کا مہ ممبراعصا سے میں اس پپرکیک لگا تا ہوں اور اس سے ایا 
کروں پرپنے بھاڑتاہول اور میرے اس می او رکام ہیں (سورہ ظہ) 7سا ئن 
عق الوتِ والأزش لبق ال “اورک رتم ان سے سوک ہکس نے بنایاآسمان اور ز مین و 

ضر را کل ے سور تق اتا 

اس طرع صلی نکوکھی چا جج ےک دوران سببقی طابہ سے سوالا تکریی اور الک گی 
سوالا تک رت ےکا موقح دیی۔اور ا ںکا ار اد عادہکرائیس متاکمہ بات انی طرح زەن نیں !و 
جا اورا نکی نم وف راس بھی سا سن ےآ کے۔ 

اس افعلقتے حزیف پا بجی ماخ کرت یں : 

(ا ححضرت ابوقنا دہ ٹلا سے ممروبی ےک رسول الدد جا لوگوں کے ور میان 
وا نکواس با ٹکیا لیم دی یکیہاول کی راویش چا دکرنااور ال پرائیاان رکھنانضل اعمال میس 
نے سے وی تی سکھٹراہوا اور حر کیا ار ول ادج ا ا بھلا بای ےک اگ بی ال کی 
راوٹش جچہادکرو ںآومیر گناہ معاف ہوجابجیس کے ؟ اتور سول الپ ڈیا نے فرمایا: ہا ں اگ رتم 
چہاوکرواور لو کے سا تھ صابرر ہو گے آ کے ر ہون کہ سے جچے_ 

رٹ یکریم لاٹ نےعمل بیان کے لیے فراادکیسے تم ن ےکہا رس ےکہ وت نواس 
رت زین سکرس سراف ساف ات ز72 
رسول اللد لان نے فرمایا: ہاں! اک رت صابرر ہو وص کے ساتھ اور بی قد ٹیکرنے والے 
رہوش ہکہ پیھ دکھانے والول میں ےآ و مھار گناہ معا فکرو نے جائیں مگ ےتمرودقر نہیں 
شس کے دی ےکائھم نے ارادہ تر کفکردپاٹھکیو ںکہ ححخرت جج ربیل نے مپ یکہاے۔(مشکوة 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
شریفء ص:۳۳۰ءکتاب ا حھادالفصل الأول) 

رکا لق کا بار ہار ئل سے سوا لکا اعادہکردانا اس وجہ سے گچھی خھاکہ بیان صوال پھ 

لہ پبیرا ہو جاۓ اور جواب خوب انی طرح سے سکنے ٹیش دفقت ودشواریی کا سا مزاکر نا نہ 

پڑے۔ اہن اآ بھی داعیان من اسلا مکومیچی اسلوب اپنا ےکی ضرورت سے ماک ہن زیادہ 


8 74 ےر 
سے زیادہ مو تاور اثانداز ہو کے_ 


لے ات لکاسوال پچ رآ پکاجواب 


عہررسماات میں ج بھی وعوت دیتا نکی محفل منعتقد ہوک یوکخزت سے لوگو ںکی بھیٹر 
ہواکر ینیء دعوت سرکیار پر ہر اص وعام لی ککہتا ہوا حاض ہہوتاء سا مان ٹیس سے پ رای کو 
الا تگم رن ےکی مل احجازت ہوثیءہ رکوئی اپنے ضروریات کے مطابی سوالا کرجا اور مور 
لان بڑے پی محندہ پیاٹی سے سوالات سفن اور جوابات مرحمت فرماتے ۔ فانکرہ ىہ ہو ایوہ 
پر یک سوٹی ے متوجہ ہوکر جواب ڈعونڈڑ نک یکو کچھ یکم رت ےکک نہیں ہو پاتاتوکم ے۸ 
جواب بی من دای کے سا تج ماع تکمرتے ۔ 

جب سائل کے سوا لکو ری رب سامح تک می تک کیا و چنا اہ رہاے تو تضور 
یں رایت بی عورو ٹفوس اور سکنل اندازیٹل جواب عنابیت فریاتے جس سے نما وعا مکو 
نی اور ھن حصل ہوجا کیو ں کسی کے بھی سوا لکوجب تک سخحض رت دک لیا جا ۓےکماحقہ 
تی نشی جواب نہیں دیا جاسکنا ہے۔اس لیے سرکار دوعالم ٹا نے اس نادد ونایاب اور 
او کے الو بکوابنایا۔ قرآن مق رس میس چا ہا اد تی نے ان محبو بکو متوج کرت ہو ئے 
رایا: ”یَسْتَوئَكمَ الکٹر یں “ (ایت :۲۲۹ پار :۳ سور ویقرہ) ”لوک تم سے خش راب اور جھ 
ےکا اگ کت یں“ دوسری کہ سے مو يك من المحیض“(آبت: ۲۳ء پار:: ۳ء سورہ 
بقرو) مور تم سے پت ہیں جیش کا عم ماور تیسری عگنہ ہے: ”کوک من اشائ آیات 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
مزا “(پارہ:*۳ءسورہ نازحات ءآیت:٣٣)‏ تعقم سے قامت کے متلق پپ کھت ہی ںکہ د کب 
کے لی جمبری ہوئی سے“ اس کے علا ود اس طر کی او بھی بہت سارک آنیں ہیں ججن سے ہہ 
ظاہرہہو تا ےک ہآپ مت مکانیات ت ےآپ سے لوگ سوالا تکمریی گ ےآ پکوجواب دبا ہوگا۔ 
حدیث پک ے:”من سُْلٌ عن علم علمہ ٹم کتمە الم یوم القییمة بلجام من 
الزار “جس خیش سےیلم کے بارے می ںکوقی ای چزھی جا سکوانتاے اور ود ال کو 
چھیاۓ (یشی نہ جا ۓآ نوقاصت کے دن اس کے مضہمی کن کی لام دی جات ۓگ“ 
چیا دج کمہ پیا لمرہم جیا سان لکوجواب کے دورانی بی بہت پگھ با دتنے تی ےکہ 
شرلیعتء اس کے احکام اور وین کے معلوماتء کی نہیں اپٹنے صحا کو سوا لکر نے پیر ا عار تے 
بھی تہ جھ ان کے لیے ام ہوما (جچتی شب وروز کے مسرائل اور٘س کے جا نے کے ماع 
ہوتے) ال کی جانب۔ یے ڈرال اور شریعت ہخبرہ جیبآلہ عد یٹ پاگ ے دا ے- 
(ا)حضرت جابر لا سے مردکی ےکم رسول اللہ ٹیا نے فرمایاکہ جہالا تکی 
شفا سوا لکرنا جہن حطیقت سے وا نکر رج جات تم موعالی ے۔اور ما یا 
رسول جااپا نے ان معاملا تکوٹ یکریم شاپ کے ساس بھی کرت جو مکل اور مشتبہ 
ہوتا تقر بگجم بیان اور زیادلی امیان ے لے رسول الق لان الع کے ہرایک سوا لک 
ا ا کک ا ا ا 
دبٹی امور سے متحل یآپ کے اصحا بآپ سے جوسوالا تکرتے الن کے ججوابا تکتنب 
اعادیث یل موجودہیں چندجوابات تفر مقامات پر ز نظ تاب می سبھی میں کے ۔ 
(۴)حضرت ابو نعل می فا سے مروبی سے وہ کت ہی ںکنہ میس بکرم ای کیا 
پارگاہ ش ںآ نویس نے عرخ کیا :یار سول ارپین ایس ا لکناب کے سا تر بناہہوں (چنی 
ال نکی زین میس )انوکیا میس ان کے برن می سکھاسعکتا نہوں ؟ اور ابی زین ٹیس ر تا ہوں چہاں 
کرت سے کا کیا جانا ےآویس اپنے تیر سے اکر سکتا ہہوں اور اس کے بھی جو ترببیت 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام.۲3۹51 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۱۹۷۳ 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

یافن ہے ایگ اور جو مت یافتت نہیں ہے میرے ل ےکی ہہترے ؟ 

تور سول الدب ٹین نے فرمایال تم اب لکتاب کے سا تجھد رت و ءنوان کے ب رتنوں میں 
نرکھا وہ ہا ں اک رکوٹی دوس ابر خن نہپ لوکھالوبش ریہ لے ا سکواینے طور پر دوجولو۔ 

اد رتونے جوکہاکیہ اس زین پ رکشت سے شکار ہوا ےآ وت مبھی شکار کے انو رکھا سکتے 
ہویشرنلیہ اس پرائیل رکانام نےلو۔(تر مذدی شریفءج:۲ءص:٢)‏ 

اور کے سے شکارکرن ےکا مطلب می ےک اک رسکھاۓ ہو ئۓ کت سے وکا کر تو اس 
پرجھی اڈ دکانامم نے لو اور اس کے بحدکھا 2 اور اخ ر سکھاۓ ہو کے سے شکادکر وتواس ںکوگھی 
سنت مسفونہ کے مطا لی ذ حگکمر وپ کا2 

0 اس لفظط کے ساتجھ سے پیا رسول الد اٹم ای لکتاب کے پڑ وی 
ہیں دہ لوگ اپنے برتنوں میس ختڑی ےکاگوشت آپلاتے اود شراب پٹ ہیں توکیا ان کے برتوں 
می ںکھائیںء جنیش یا نہیں وس رکار ددعالم چلای اڈ نے فربایا: اس مم ںکھانا پیا لکل درست 
یں اکر اس کے علادہ برخی ہوء اور اس کے علادہ برخن نہ پا وت تو پائٰیٰ سے صا فکرلو پھر 
مھا یئ ۔(اودا ود “: ٣ء‏ بے ۵۱۳ ککتاب الام 2ء باب: فی استعمالە أنيه أھل الکتاب) 

تودجکھیے سار دوعالم ٹن نے اپنے اصحاب و و0 


+٠ہہ‏ ہی ھ 
دوران ری حال ومتقام میں خی رکون 
رن مقر میس ال'د رب العزت وعدہ ااشریک نے دعوت ون کے تم کے سساتطھ 
سماض تی اسلوب ےبھی لوگو ںکوا جم کیا ے۔ وت کے لیے ة ان کا تَككَ بش النِیٔ 
وھ آو تتوقيقَكَ نَا عَييكَ الَبَلْعَ و عَلِینا الْحِسَابٌ 0(س ور ات٠٥)‏ 
ماکان رك مقيك الگزی حٹی يَبّک فادہا ملا باعل اتا وا کا مل 
لی ال و ا ہلا لمع 0 (سورضصش,آت ۵۹) و یرہ ملا حظہکریی- 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

ان کے لاد نیپ ہیی تنحم لفن :آنران: مکل : وغد0+ ۶یا دیو شاف تی 
اسلوب اور دعوثی ری قرآن واحادیث کے صفیات پیر امول جواہرات کے اشن بحصرے 
پڑے یں دعوت وین کے لیے اس کے انز می تقاضضوں پل ضروری ے۔ 

اورداگی حا تکوان قمام الوب سے واقف ہو ناجھی ضروریی سے جہاں دعدداور و عیر 
ک بین آے پالئل ویمائی بنادے الہ ساممان پررقت طارکی ہواور خوف الھی سے و یکاپ 
اھ جہاں فرحت وشادمال یکا بیا نآ ےتودائی الما الوب بیان اختیا کر ےک سامصتین تجموم 
9 1+ 

لح احوال میں ج یکم باون کا ربق جن بیہ ٹاہ دوران خطاب مور ہکان 
عال ومتقام مٹں رو ںا کی ت۴ا ےا کی وت اکن کے اور 
ین فرکم ران چزوں کوبان فرراتے جس ے رانا مقصودہوجاء مل دوران خطاب بھی دز حعغکا 
با نآجاتاتودوز نکی تام سزائی ںآ پک رن کت رت کن و تی اون کے 
برام سایپ ڈیںء می سایپ ایک رجہ مض کو کاٹ توا کا دردادد زہرجالینس بر کک رے 
۔ای طرع دوز نکی ان ںآ کا تصو رج سکوایک ہراب رس کک جلا ماگ یاتددو رخ ہوگئی چھر 
ایگ ار ب کک جلاپاگیاتودہ شید ہ کی اور پچ رابک ہترار بر کک جلا ماگ اتد ہکا ی ہہ وگ اور 
ای کے ذد می ہآ پکی امت کو مزادگی جال ۓگی۔ ا لیے جب اى رہ کا یا نآ الو پ کاچ 
رٹم سے مرخ ہوجا او پکی حالت متخیرہون گت ۔ 

ابی رع جب جن ت کا بیا نآ تو ا کی سار آسائتی ںآ پکی ڈگ ہوں کے سان 
ہو تی ےکہ اللہ تعالی نے اپنے برگزیدہ بندوں کے لیے جفت میں ای چےڑس تا کر دکھی ہیں 
سکون کی اکھد نے دکھا سے اور نہ تی ال کی بیو ںک و یکالن ن ےآ کک سناسے اور شی 
انمان کے دل پرا لک :ابی تکاخپا للزراے- 

عدبیث پک ےم ا لکااندازہلکایاجاسکتاے : 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 
(١)حضرت‏ ابوب راف سے مردئی ے انھوں ن ےہاہر سول اللہ ٹڈ نے فرایانہ 
کھت مکوسب سے بڑ ےگناوکی خرن دے دوں ا سکوین ھرتہ فرمایاتوافخھوں ن ےکہاچقی رادکی 
نے رکیوں نہیں یار سول ارڈ اڈ تو کار نے فرباپاک یکواڈ ہکاشٹری ک تمہ رانا اور دالی نکی 
اف ما یکرنااس حال می سک ہآپ کیک اکر ٹیٹے ہوتۓ تے پچ رف مایا وٹ یکواہی سے با یکو 
اداد دبراتے تے بیہاں م٠‏ فک راوگی تن اکرنے گے آپ کے ناموشش ہہون ےکی اور یس جیے 
اس ےک اعاد فرباتۓ وےے وی ےآ پکی حالت متفیثرہوٹی حالیء مقصوداس سے سائع کے 
لوب واذہا عکواپتی طرف متو ج ہک رن بھی اہ اور اس عمل سے ڈراناچھی مود ماک ہججھوٹ سے 
چا( مسلم شریفءج:۱ء؛ص:٦١)‏ . 
آرج کے واحظین اور خط پا ین ریرش اصلاپ معاشرہء امت ء دی د عو کی تک راور 
خوف وخشیت اود یک یطلقین ے پالمقل خزالی نظ رآکی ہیں۔ اور رف خاش کہ انداز با گی 
ای گی اور خی رید ہوا یف کاانداز اس قد نا مناسب ہوا ےکہ یہ معلوم بی نہیں 
ہو کہ یہ اسلائی یی سے بادوسرىی قومو ںک یتذیگی مان کاو بتقتاعلت اسلا می کے نراھرے 
کبلائۓ جانے والو کی سی کت ہرفردیش کے لے ریہ ہے اس سلسلے یس نین 
اصلا لان او رج فی ط رق ہکا رکی تو ںکواپنان کی مخت ضرورت ہے۔ 


وت کی کیم نات ے وا رخ 


دن بھییشہ سے ایک سے اور ایک بی ر ےگا وا سکیحلن بے حد ضرورکی سے ء ججی اہ 
ران ید می سے تا اد ینہ الہ الا ضلانر“(سورہال عران الد کے خزدیک سب سے سا 
دن الام یٌ6ے۔ 

یا مر جیا تح و لکی متس وعت و تج کی زی ایت ہن 
پاذارولںء میلوں, تار کی منڈڑوں اور ایام رس ختلف شیموں جہاں ماحول سا زگا رات آپ 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 

وہاں اکر دعوت وجلئنغ کے فرال اضچام دن اور اس طر ‏ کاکوئی فی موںحع باتجھ سے نہ جا 
5یئ س0س چنرشہرت جن می ںملہ اور طا نک بہت مشہور 
تے ان کے علادہسماریآبادیاں وس وعرئیل صححرانو ں میں جکھری ہہوٹیتھیں ۔کہی ںکہی ںکو 
گا نوں یاقصبہ دکھاکی دبا تھا نیز انی حصبیتوں کے باحتث را ت بھی پپران نہ تے اس لیے 
ایک عللہ سے دو سرک عچکہ جاناخطرے سے نالی نہ ٹھھاق ال کے ممرداروں نے جابھی مشاورت 
سے مدکی منروں کے بلہ عجلہ انعقا کا اما مکیا کہ جار اور صنحت کار ابق ایق دد 
آ مر تار می امور اور مصنوحعا کو نےکر وہاں ج جائش اور اس علاقہ کےگمردو نوا ش ںآیاد 
لوگ اق اپقی ضردریا تک چیڑی اکر خر بدلیں۔ 

ال انشماع سے فائرہاٹھاتے ہوۓ شع ان قصا مک سے خطباا پش وع خطبات 
سے لوگو ںک مو کرتے۔ اس سے عوام کے اد ذو کی آبیا ری کے سا ساتھ لوگ اپتنے 
ون کے شعماسے متعارف ہہوتے اور ا نکی تقادد الکلا ھی اور فصاحت دبلاغمت پیا نکی ان 
ہوئی۔ ان ججہوں پربھی ٹ یکریم ڈیپ تشریف (اتے خط ناک راسنتو ںکو ےکر سے موںحع و 
مکی مناسبت سے اپقی دعوت لوگوں میں عا مک رت _(ضیاء ای .رع:۳ء :۴۷ )۴٣۵۰۴‏ 

عامر یناسل بپشفی جو نی رحمت پل کی ز نی کے آخری ایام یس مرف پاسلام 
ہوۓ جو بی حخفیہ تل ہکا ایک فرد تھا۔ انس ن ےہاک سرکار دوعالم بے کو لا تا رن سال 
دک الہ تضمور ابا محزہ اور ذگی الچازکی منڈڑی میس تشریف لات اور بھی ارڈ عو چل پپراجیاان لا 
ن ےکی دعوت دینے نہ زجمیں فرما ےک مرا دفا غگکرو یہاں ک کک یس اپنے رب کے پییامات 
یا کوں اوران کے ہر لے تضمور ببییں جن کا دو سنابکیس یں نہ حضمورکی دعوت تو لکیا اور نہ 
تح کوک خرن پلک چم تقو رج با اک یت بت فی اتپ کی 
تضمور پیشہ نی او عم بردبار یکا مظاہردفریاتے۔(ضیاءالی ء :۳۲ء ض:٭ے م) 

رکار فریاتے ڈی ںکیہ ”نے ایل کی راو جقننا خوف زدہکیاگیااو رک یکو نمی ںکیاگیاہ بے 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام 1351 ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲۹۱۷۳ 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
کی راوییش چٹ اذیت دی یگئی اور یکو نہیں دی یگئی ہبہ پ میس ون اور رئیش ابی بھیکزریں 
کن او الیک ےکا نے کے لس ےکوئی ایی نو تی کی ےکوکی ان دا رکامک نار 
تل مقار میں “(دی دحوت.ك:۵٣)‏ 
ربھی آپ کے پا خبات میں لخزش نہ آکیء مو ول کا لیاط صرف مخاطب کے 
ار سے فرماتے نہک اپنے اختبار سے ۔آ پتوجمہ وقت دعوت وحن ین گی ےن سج 
رب دی نے ارشاد ٹرایا: ”نَعَلَكَ بَاغم نَقْسَكَ أن لَايَكُوقامُوْمِثنك“(سورة الشعرا آیت:٢)‏ 
یں قماپتی مان پربل جاوگےءان کےتم می سک دہابیان نہیں لا “ 
آج دائ یکو چا ہج ےکہ مد یکی ذ ہن یکیفیت موقح وگ ل کا خیال رت ہہوۓ اے الد اور 
207 کی اطاعع تکی رف بلائیں اور بس سلسلہ میں ایی ےمم ولاک دی یجس سے 
نت ہو جاے۔ دائ گکوب بھی چا ہجےکہ سوز وگنزارہ لو اور خر خوابی کے جذ بے کے 
ساتھ موترانرازیش جوکے جذبا تکواپھارے اور دای بے بای : موت وآخر تک لکل جم 
ےب تنک ون کے بن نے کاپ کے ای از 
تال کی بندک یکا شوش او رآ ایا ٹڈ کی محبت واطاع تکاجذب پیداہدجاۓ۔ببا لک کک دەراہ 
پر جن میس بی ای ےکوغیات کا ضا٠‏ ن یگنن گے دائی کا اندا گنو ایا ول نیس ہوک 
اطب داگی کے بے بیس ود تپ سو کر کے جو ا سکیا الا کے لیے داگی کے ول میں 
موجزن ہو(ردٹی رگوتءضص:۰۰٠۳)‏ 
(۱)یمالہ عدیٹ پاک ے وا ے ”انی ائخولکم باموعظة کما کان رسول 
الله ا یتخولنا بھا مخافة السامة علینا میں نا ےھ و ےکر وع وق نک رتا ہوں 
یس ےکم بی ۷ریم ب ان نان د ےکر وع فرماتے او رآپ الیمااس لی کرت ےک چم لو مک ہیں 
تانہجائٌں“۔(بخاری شریفءج:۱؛ص:١٥)‏ 
اس لی ےکہ اسلام میں مال یکفررہے۔ جی اہ فرآن مقدرس یس سے ”2ل اسان 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 

روج الو“ ان لا ايک من روج الو الا الَعَومُ الَکْرْنَ ہ “سرجیٹ:ءہ۸) 

”ال گیا رعمت سے ال وس شہ ہوا لک رححت سےتوش سکافربی مالس ہواک رت ہیں “- 

(۲) د۶ی عدیٹ پال ”عن ابی مولی الاشعری قال:کان رسول الله 
يَاَُ اذا بعث احداً من اصحابہ فی بعض امرہءقال:بشرواءولا تنفرواء 
ہے راولا سر وا'” رت موی اش ری سے مروبی ےک ہ جب رسول الد بی 
اپنے صحابرمٹں 7 مواِکی 7 ےتک ےوفریاتے اتی پاتوں سے لوگو ںکو 
خوش شکرناء تحض رن ہکرنااو رآسانی برتناء تن میں نہ ڈالنا۔( ار ی شریفء ج:١ء‏ ص١٦٦)‏ 

انآ بھی دای نفرا تکوبیک۷ریم بنلان کے بناے ہہوۓے اسسلو بکوانخقیا رکرنا اور 
ش لکنا چا ہے مہہ رقدم پرکا میا یی ماراقدم چڑے۔ 

اخ ری بات: 

گمزشن صفیات میس دعوت دحا کے بی اسلوب پرقدر ےتفصبیل سے روشنی ڈالی 
0 ہے۔ہمارگی اور آ پکی نر یت مشترکہ زمہ داری ےکہ ٹیا 
اکر تا کے طط ربقہ دعوت اور اسکوب وم برا ہوں اور اپۓ پیٹ ی کیاروا ںکومنزل 
مقصو کک پا ئیں۔ م دعوت وت کے میدران یل اک وق تکا ماب وکام ران ہوسکتے ہیں 
ج بکہ مند رجہ پالا ریپ تبوکی پر ہماراشل ہوگا۔ اس کے می رب مکا میا ب نہیں ہوستے اور تہ 
ہاری لغ موتاور تمہ خجز ہوکتی٤ے۔‏ 

کیو ںکہ 

غلافک چپ کے رر 
ہرکزپ منزل مہ خواہدرسیر 

گروظ رت ٣2۳‏ تر ارت کس ر وت 2ک و رقاتو ں5 

خنیال رکمناچھی ضردرکی ے۔امتندادز مانہادر مو ایام کے ساتھ لوگوں کے تطمریات بدل رے 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 

ہیں۔ افکار وخیالات میس تد رما ہورہی ہے۔ غ رح شک ہآمج رچیٹ نمایاں تبدٹی رونما 
ہور بی ہے۔ بہضندونا ین دکامعیار برل چا ہے 

گزشت بی ں یس سسالوں سے ذوق دو ججدان ہہ ہا ےک دہ یھ دار ادر تین برپاکرد نے 

لی تقر برو ںکوپپندکرتے ہیں لیکن اب عوا مکاس یراو رتلیم اف طبقہ اس جک پپند 

یں روا 

آج اس با تکی مخت ضرورت ےک ہم اپناط رح اور الو بتق می تبدٹی پیدا 

کری۔ سنجیدہ اورسکیھ ہہوے انداز مس کام اور مق ہکی پا لوگوں جک پچپان ےک یکیششل 

کریں۔ ال' تارک وتعالی ہم س بکو دین کا سا ام بناے۔آمین بجاہ سیدا مرسلین 


علیھم التحیة والتسلیم. 


۸ ۸ ۸ ھ۵ ۸ 
2 پچھو] پچشھو] پچشھو] پچھو] 
کک ہہ ہت ہت 


۷ ۱213۲113501.۷۸۷۸۲۹ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


۱010007 ا5آ ۹135ء ۱۷۷۷۷۷۷ 


تورم ویزلت ملا ارصرسے 


اثوالزڑ 


: 7 
نت زندکی نام ےکا ممکاادر ےکا ری موت ہے۔ 

پل زین کےاوپرکامءز جن کے یےآرام۔ 

ات می رے نزد یک پ ریخا ش تکاجوا بکام ے۔ 

بت دوات دا نت سے مان ال سے ہفحت راومدایں شر رن ےکا جذہے۔ 

لت خقل مندددہے جودوسروں کے تج بے سے فا تدہااٹھائے سخ دج کنا عمرضائ کر ناے۔ 

بت تاب قدددہ ےچ کال پا ختاورسیییلم سے جمور ہے۔ 

تح اوقات( دق تک بر بادکی سب سے بڑیی وی ے۔ 

لا ضس ےکا لیا جا تا ہے اسے اخ کی سکیا جانا 

بت - 9 0 

نام کے یکا مکی کر نا اہی ہکا کرد گ ےق نام بہوجی جا تگا۔ 

لت دن کاع می عمزت دوقارکاسبب ہے چجا ےہ طرں 

ھ بھی چوڑی نمارتی ہوں تیم ضہہوقوسب بےکارے۔ 

طال لی کا ز مانہہایت پامند یکا ز ماش ہے اس وقت شس چزی عادت پڑ جا دہ بمیشہ باقی 
رےگی۔ 

کا میا بٹتخصیتو ںکیتقید( پروی )رنے سے1 د یکا ماب ہوتاے- 

بت الہ پ روک لکر نے الا دووں چان شس بلندر بتا ے_ 

ات زدگی دہ ہے جوسی ددسرے کےکا م1 ے۔ 

ات زواز:ضنااررآت یلان +/ نکی شانلڑان-(موارت عریف) 

عحبت رسول( صلی ال تا لی علیہ ےلم کی عبت خدا(عز ول ) ہے۔(معارفعہ یٹ ) 

مدرس چلانا آسا نکاس میس ءاس کے لی رو او زسم دونو ںکھلا نا پڑتا ہے۔( ہجوالب رامعلوم فی 
کكصكصص۷ئ"" 


۸۷۷ ۱213۲۷113.51.۸۷۸۲۹6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


0007 00ا5 آم5ا ۹133ء ۱۷۷۷۷۷۷ 


کام کےآ دی ہنو کا م یآ د یکومحز بنا تا ے_۔ 

آ دی کام کے کے پیداکیاگیاہےء جو بجکا ر ہے ود خردوں سے بت ہے۔ 

تقر رسب ےآ سان ےہ اس نک تی اورسب ےنگل تمتیں“ 

نت خمداسے ڈرے وا لی یں رتا 

لت اقاق نل ے,اخلاف گوت- 

لت جج سکی نکر مقصد پرہوگ یکا میا لی ال کےقدم چو ےگی۔ 

ات کام دن یاکا ہو یادی نکاححت پرمووف ے۔ 

ابی یس ٹٹھنا چا بے جہاں سے اٹھنا پڑے۔ 

ات کامیاب طالل لم دد ہے جواستاذ ےلیم کےسا تم ل بھی سیکا ہے۔ 

"ےچ مسلمان وی ے الد و رسو لکافرمال بردارے۔ 

نت در سے کے مد رمی نکو چا ےہا ےکومدرسکا ملا زم یں خا م بجھییں_ 

بت ونت بہت ھت یز اوروق تکوضائ کنا ہت بڑی بے وی ے_ 

ات یقت میں نمازتو جماعت ا کی نمازےء ور تصرف فرت ضکی ادا گی _ 

آراس لی زندگ یی بر اد ے۔ 

لت مسلمانو ںکی فلا وکا میالی+نخوف الب پر قوف ے۔ 

تقل بی زندی ذکروگھرے۔ (معارف عریثٹ) 

9 تل یتال ہے۔ 

ت جو دا سے ڈرنا یھ وڑد تا ہے ووسا ری دنیاےڈرتاے- 

آد لکوایمااستاذابنانا اہی جیک مو ل کا پک رہو- 

لا دوسرو ںک ن بیاں دیھنی چائس اورا تی خامیاں- 

ھ مس ننجھی بوڑ انی ہوتا۔(ابیناً) 

ت مشحیت ایز دبی یل عھبرجی شالن بندگی ے-(ایتً ص ۲ء) 

می نے بھی مال فکوا کی مخالت کا جو ابمل دیا لاپ ےکا مکی رقاراورتی کر دیج س کا نہ 

ہوا کا مکل ہوااورمی رےبخاش نکا کی وج سے میرے مواقن بین گے _(ای ا 
ا ا نت 


۸۷۷ ۱213۲۷113.51.۸۷۸۲۹6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا تبوی اسلوب 


فروغ ایل نت کے لیے امام ال سن تکادس ای پروکرام 


0( 
)۲( 
)۳( 
و 
(۵( 
رم 
(ے) 


(۸) 


)و( 


)٢) 


تیم الشان مدار سکھونے چائیں ۔ باقاعدہ ”یں 

طلب۔کوو الیک می ںک خواپی ش خوابیگرویرہہوں- 

مد ری نکی یل قرا خوایں ا نک یککاردائوں پر دگی جائں۔ 

طال طلہہکی جا ہوجو جم ںکام کے زیادہمناسب دکھاجاۓ ء ممتقول وہ در ےکم 
اس شی لگایاجاۓے- 

اع بین جج خیاز ہو جائشیس خوایں 1و- یس پھیلاۓ جا نک ہف راو وع اً 
و مناظم رہ ا شاعحعت دین و مہ بکریی- 

عمات مر ہب ورد بر نم ہہاں من مغی رکب رتیال مصنثو ںکونزراۓے رے ار 


تزیفکراے جائیں۔ 
تصزیف شدہ اور ذف رسائل عمدہ اور خوش خطا پچھا پک ملک میں مخت میم 
کے مائں۔ 


شہروں شہرو ںآپ کے سی رگراں ہیں جہاں جس کے واعظا یا نظ یاتصنیفکی 
عاجت ہو آپ کو اطلاح دیء آپ کول اعداء کے جےے ایی فوجیںء می زین اور 
رسانے جییجتے رہیں۔ 

جم میں تقائی لکار موجوداور اتی ماش میں مشخول ہیں وظانک مقر رکر کے ار 
الال نا جائیس او رم ںکام یس امیس ۲ہارت ہو لگا ئے چائں - 

آپ کے نہ بھی اخبار شال ہوں اور و فو ہ رضم کے حمایت ہب میں مضاشین 
خنام ملک لقبرت وبلاقیت روزانہ ہا ازک ہمغتہ دار ات رہیں- 

عد ٹکار شاد ےک ”آخرزانرش دی اکا مبھی درم ددیار سے ےگا“ اورّوں 
ٹہصادلی ہونہصادقو صرول یی کیاکاا مم ہے (فتاوی رضوبے: جل ۳ء ل )۳٢۳‏ 


۱۷۸۷۷۷۷۷ ۰۱2۳۱3۲۷۱1۲1 3:01.۸۷۸۲۹6۴6 7 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
زیرسایتگرم 
ریس المفس ین تیغ الاسسلام وام لین 
جخرتعلامہ النشاہ سید می مال صاحبقلہ 
ادام لہ علین:( ور مقر) 


کا 
سلطان اللممانواسہ جج الاسلام 
حفرت علامہ الشاد سی اوک ہج اشرف اشرف ابعلان 
زبرچر:(ہھریرکترب) 
جامعہ محمودیہ منظورالعلوم نسواں عربی کالج 
اگبرپرہہ خی مسق.6 راغ ریف (وپ) 
حضرتیرن 
صوبے ال کے شبر> راڈ شرییف یں ایک تیم ادارہ ”ام مویہ منظورالعلوم نسواں عرلی 
کا“ اکبرببرہہ خی ستیء ہب ری شریف( وپ ) 
زی می ا جال کے مات دق ے اہ ومن میں عم وفشل ےگوہ یی ہونے ہے 
وی اقتبار سے ایک انیازکی عیشت کاحائل ے جہاں تشگان علوم و بکووٹی وحصربی ہرطرح کے 
علوم وفنون ےآراست دکیاجاتا ے_ 
ام ایی : حعافاتقاری مولاناسیر شح رکیل اشھرٹی صاحب قبلہ 


موپال:19914430وو 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


6007 ام ۱۷۸۷۷۷۷۷۰۰۹۲3۷35 


دعوت وتبلیغ کا نبوی اسلوب 
وپ بہارکے شممردربٹک سے ےئن لڑڑکوں کا 
لک یم اداردہنا 0 
دونار چوک شع ور( بہار) 
”مامعہفا لمہز را جہاں متا یوب رو ل۰٣‏ لڑیوں 00 21]) کرای بیس وٹیو مصریں 
ہرطرع کے علوم وفنون ےآراست دک یاجا ا ہے نی زی رطل رسکی سسبولت فراہح مکی ای ہے۔ ائل خی رات 
سےگزار ‏ کہ اس ادارہکواپن ما ناونع سے ٹوا زگ ندال ماجور ہوں- 
زیر سرپرسی 
سیا کیارپ ایشیا جحخرت علامدد مولا ایاج شھ رین ابوالخققا لی مصباگی صاح ببلہ 
رت مواانا ‏ تباین رضامصبائی 
موپانل:9608278692-8757093786 
زیر سرپرسی 
۰ 7 
سلطان العار ین حفرت علامہ الشاد سی رنگمزار اسائیل دش یٰ اوا مل علینا 
ملک ٰ مر تکا بے باک زجمان 
”مدرسہ فوفیہ مخحیشیہ کسزالعلوم“ 
بہار کے شہ رود حوی می ۓ ۸ کیل مکی دودی چریک یم اداردہنام ”مدرسہ خوش کے 
کنزااعلوم“ نب الین ٹول یھی میس ملک ای حضرت کے تزجما نکی حیثیت سے اپنے دامن یل 
عکم نل کےکوہ ر لیے ہو پیل راہے۔ جہاں منقائی درو ۲۵۰ر طالبان علوم ور کوذظ وقرّت اور 
اعدادی تاراادل لیم تقائل اساتزدکی گھرالیمں دی جال ڑٛے۔ 
مفینب :ارکی نکیٹی بررسہبذاء نی رالدین ٹول ہکیتھاحی ءاپرسٹ :رام ٹب مد عوبفیء بہار (اابند) 
0410 


7 ۱213۲۷11301.۸۷۸۲6۴6ء ۱۷۸۷۷۷۷۷ 


لم 


لاٹ ارپین لڈسٹ 
گؤسشادروڈ ہسعی(ہبء ) ہے 
ا01ت ںزن بافد دورٹل جال دوسری وم تر کے منازل ےکی 
نظ ری ٹیں :و یں مات اسلا می روز بروزز دای دائپا مک اخقیار تھے ہے ہ ےن 
مکی ہی اوراخوں ورپ صںصورتدعالی سےگز رر سے یں ۱وہ سب کے اشن 
عیاں ہے اں سے اس پرآتوب دور کی نزاکت کے می نظ رآل ایا ۶ا 
''ئ) زس تت۔یدرج ے۔ 
ا و آں یھ کے ذرلعہ ہمارا مد دیقی وحص یی علوم سے کوام النا ںكومتعارآن کراتا 
''.‫ + ص۷ رص تک ً 
ٰ رک أٌافلا قی وکردارکی ای مشالوں سے پورے معاش روم زی نکرناہے۔ 
پاچ سس کے چتدا ضر قتاسصے 
0( قری اتب دمدایں کےنظام ا ایر درگی۔ 
(٢)‏ یلو ںکو ا ماف کےبارناموںل سے تعارف دکرانا۔ 
)٣(‏ خوام لن کیا شددہدایت کے لیے وروی پفلٹ اور سائل شا کر نا 
(۴) باذوق۶ یب للا کے لیے ونا فک کفر ای۔ 
(۵) ونم دو ہازمنی دوہ۔ 
نوٹ ںیم کیج ت لوت ددسدائں ہے ہیں( دا راو امیرے 
2 20 


۱۷۷٥0۷۸۸۷۸ ۸2۸۵ ۵۸۲۸۱۷۸ ۱۸۱۹۸۷۲۱ 
۸) ,ە708‎ 


۷ ۸۷۸۲۹۴66. آ5 ۰۱2۱۹۲۷۷۱۱۹ ۱۷۷۷۷۷۷